ایک عرب سے ملاقات ہوئی۔ ان کو میںنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول سنایا إِنَّ لِلهِ عِبَادًا يُمِيتُونَ الْبَاطِلَ بِهَجْرِه(حلیۃ الاولیاء، جلد1، صفحہ 55)۔ یعنی بے شک اللہ کے کچھ بندے ہیں، جو باطل کو مٹاتے ہیں، اس کو ترک کرکے۔
انھوںنے اس کو پسند کرتے ہوئے کہا کہ اسی مفہوم کا ایک مقولہ عربوں میں رائج ہے جو کہ اس طرح ہے لَوْ أَنَّ الْكَلَامَ مِنْ فِضَّةٍ لَكَانَ السُّكُوتُ مِنْ ذَهَبٍ (الزھد لابن ابی عاصم، اثر نمبر 33)۔ یعنی بولنا اگر چاندی ہو تو چپ رہنا سونا (gold) ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔