Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Auraq-e-Hikmat
Auraq-e-Hikmat

31 جولائی 1985

Urdu · 2 min read

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہےلَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (21:10)۔ یعنی ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب اتاری ہے جس میں تمہاراذکر ہے، پھر کیا تم سمجھتے نہیں۔ بعض بزرگوں کے متعلق مشہور ہے کہ انھوںنے یہ آیت پڑھی تو ان کے ذہن میں آیا کہ قرآن میں جب اس کا ذکر ہے تو ہمارا بھی ذکر ہونا چاہیے۔ چنانچہ انھوںنے قرآن میںاپنا ذکر تلاش کرنا شروع کیا، اور اپنے حسب حال کوئی آیت ڈھونڈھ نکالی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی اصول کے تحت مجھے بھی یہ خیال ہوا کہ میں قرآن میںاپنا ’’ذکر‘‘ تلاش کروں۔ تلاش کرنے کے بعد قرآن کی جس آیت پر میرا ذہن رُکا وہ یہ تھیوَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (9:102)۔ یعنی کچھ اور لوگ ہیں جنھوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کرلیا ہے۔ انھوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ امید ہے کہ اللہ ان پر توجہ کرے۔ بیشک اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کے نزدیک ہدایت یافتہ گروہ کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ جنھوںنے واقعۃً پورے معنی میںعمل صالح کا ثبوت دیا ہو اور اپنے عمل صالح کی بنا پر وہ نجات کے مستحق قرار پائیں۔

قرآن کے مطابق دوسرے لوگ وہ ہیں، جو پورے معنوں میں عملِ صالح کا ثبوت نہ دے سکے۔ البتہ انھوں نے اپنی حیثیتِ واقعی کا اعتراف کیا ہو۔ جنھوں نے کامل شعور کے ساتھ اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو جانا اور کسی تحفظ کے بغیر کھلے طورپر اللہ کے سامنے اس کا اقرار کیا۔ یہ دوسرے لوگ بھی اپنے اقرار واعتراف کی بنیاد پر اللہ کے یہاں قابل نجات قرار پائیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میںاللہ سے یہ امید کرتا ہوں کہ وہ مجھے دوسرے گروہ میں شامل کرے۔میرے پاس ’’عمل‘‘ کا سرمایہ نہیں، مگر غالباً میرے پاس ’’اعتراف‘‘ کا سرمایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ توفیق دی ہے کہ میں اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کا آخری حد تک اعتراف کروں۔ یہی میرا سرمایہ ہے اس کے سوا میرے پاس اور کوئی سرمایہ نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content