Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Auraq-e-Hikmat
Auraq-e-Hikmat

24 جولائی 1985

Urdu · 2 min read

قرآن میں بہت سے پیغمبروں کا ذکر ہے۔ اس کا مقصد اہل ایمان کو ان کی زندگی سے سبق دینا ہے۔ مثلاًسلیمان علیہ السلام ایک اسرائیلی پیغمبر ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصیت دی کہ جنات کو ان کے لیے مسخر کردیا (الانبیاء، 21:81-82)۔ یہ چیز بعد کو یہود کے لیے فتنہ بن گئی۔ انھوںنے یہ سمجھا کہ حضرت سلیمان جو کچھ کرتے تھے، جادو اور عملیات کے زور پر کرتے تھے۔ چنانچہ یہود نے جادو اور عملیات میں مہارت حاصل کرنا شروع کردی۔ انھوںنے خدا کے دین کو جادو اور عملیات کا دین بنا کر رکھ دیا (البقرۃ، 2:102)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت مسیح کا اصل کام دعوت تھا۔ دعوت کا تقاضا ہے کہ داعی یک طرفہ طورپر حسن اخلاق کا طریقہ اختیار کرے۔ چنانچہ حضرت مسیح نے اپنے پیروؤں کو رافت اوررحمت اور اعراض کی زبردست تاکید کی۔ بعد کو حضرت مسیح کے پیرو کار رافت ،رحمت اور اعراض کی دعوتی مصلحت کو سمجھ نہ سکے۔ انھوں نے اس کو اصل مطلوب سمجھ لیا اور اس میں مزید مبالغہ کرنا شروع کیا۔ یہاںتک کہ اعراض دنیا برائےاخلاق و دعوت کو انھوںنے ترکِ دنیا بمعنی رہبانیت بنادیا (الحدید، 57:27)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر چہ اپنی زندگی کا ابتدائی نصف سے زیادہ حصہ دعوت پر زور دینے میں صرف کردیا۔ اس زمانہ میں آپ نے بھی صبر اور اعراض اور یک طرفہ حسن اخلاق کی تعلیم دی۔ مگر ہجرت کے بعد قریش کی جارحیت نے آپ کو دفاع پر مجبور کیا۔ اس وقت آپ کے اوپر قتال کی آیتیں اتاری گئیں۔ مدنی زندگی کا بیشتر حصہ جارحانہ کارروائیوں کا دفاع کرنے میں گزرا۔

مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید اندیشہ تھا کہ آپ کی امت بھی اس معاملہ میں فتنہ میں مبتلا ہوگی۔ جوچیز مشرکین اورکافروں کی جارحیت کے خلاف بطور دفاع فرض کی گئی تھی، اس کو مسلمان خود اپنی جنگ کے لیے استعمال کرنا شروع کردیں گے۔ آپ نے حجۃ الوداع کے خطبےمیں فرمایالاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 4403)۔ یعنی میرے بعد تم لوگ کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم میں سے بعض ، بعض کی گردن مارنے لگے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس طرح کی کثیر حدیثیں ہیںجن میں مسلمانوں کو مطلق طورپر جنگ سے منع کیا گیا ہے۔ مگر خلیفہ سوم کے زمانہ ہی میں مسلمان اس فتنہ میں پڑ گئے۔ انھوںنے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت ترین انتباہ کے باوجود آپس میں لڑنا شروع کردیا اور کہا کہ یہ جہاد ہے۔ مگر یہ جہاد نہیںبلکہ بدعت تھی اور یہ بدعت آج تک مسلمانوں میں جاری ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content