Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Auraq-e-Hikmat
Auraq-e-Hikmat

18 جولائی 1985

Urdu · 2 min read

دانیال لطیفی صاحب (پیدائش 1917) سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ (بیرسٹر) ہیں۔ ان کی تعلیم زیادہ تر انگلینڈ میںہوئی ہے۔ وہ 1928 سے 1939 تک تعلیم کے سلسلہ میں انگلستان میں رہے ہیں۔ انھوں نے انگلینڈ سے قانون کی ڈگری لی۔

انھوں نےتعلیم کے زمانے کا ایک واقعہ بتایا۔ ان کے ساتھ ایک انگریز نوجوان تھا، جس نے آکسفورڈ یونی و رسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی۔ اس زمانہ میں نیر وبی کے لیے اعلیٰ تقررات لندن سے ہوا کرتے تھے۔ نیروبی میں ایک جج کی جگہ خالی ہوئی۔ اس کے لیے مذکورہ نوجوان مسٹر برسفورڈ نے درخواست دی۔اس کے بعد لارڈ چانسلر نے اس کو انٹرویو کے لیے بلایا۔ لارڈ چانسلر نے مسٹر برسفورڈ سے صرف ایک سوال کیا اور اس کے بعد ان کا تقرر کردیا۔

لارڈ چانسلر کے کمرے میں ایک بڑی سی تصویر لگی ہوئی تھی۔ اس نے نوجوان سے پوچھا، کیا تم جانتے ہو کہ یہ کس کی تصویر ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ انھوںنے کہا کہ بتاؤ۔ نوجوان نے کہا کہ لارڈ کُک کی۔ لارڈ چانسلر نے کہا کہ تم نے صحیح بتایا۔ اب مجھے امید ہے کہ تم نیروبی میں جسٹس کی حیثیت سے اپنے فرائض کامیابی کے ساتھ انجام دے سکوگے۔

سراڈورڈ کُک (1552-1634) برطانیہ کی مشہور قانونی شخصیت ہیں۔ ان کا نام انگریزی میں (Coke) لکھا جاتاہے۔ بظاہر عام آدمی اس کو کوک پڑھے گا۔ مگر انگریز اس کا تلفظ کُک کرتے ہیں۔ لارڈ چانسلر نے یہی جاننے کے لیے مذکورہ سوال کیا تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ نوجوان لارڈکُک کا صحیح تلفظ کررہا ہے تو اس نے اس کی بقیہ استعداد کا قیاس کرلیا اور اس کی درخواست منظور کرتے ہوئے اس کا تقرر کردیا۔

بعض چیزیں بظاہر چھوٹی ہوتی ہے۔ مگر وہ کسی بڑی چیز کی علامت ہوتی ہیں۔ اس بناپر چھوٹی ہونے کے باوجود ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ یہی اصول تمام معاملات میں ہے۔ خواہ وہ دنیا کا معاملہ ہو یا دین کا معاملہ۔(83 سال کی عمر میں دانیال لطیفی صاحب کا انتقال 2000 میں ہوا۔)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.