آخری زمانے میں حضرت مسیح کے نزول کے بارے میں جو روایات آئی ہیں ان میں بعض اختلافات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً ابو داؤد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیںفَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، ثُمَّ يُتَوَفَّى(سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4324)۔حضرت مسیح دنیا میں 40سال رہیں گے۔ پھر ان کی وفات ہوگی۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیںوَيَمْكُثُ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ سَنَةً، ثُمَّ يَمُوتُ (المنتظم فی التاریخ،جلد2، صفحہ 39)۔ یعنی اور وہ دنیا میں 45سال رہیں گے۔ پھر ان کی وفات ہوگی۔
بظاہر دونوں روایتوں میں فرق ہے۔ مگر یہ محض لفظی فرق ہے، نہ کہ حقیقی فرق۔ یہ ایک انداز کلام ہے جو ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ شارحینِ حدیث نے اس کی توجیہہ یہ کی ہے کہ 40 سال والی روایت میںاوپر کا عدد حذف کردیا گیاہے۔ عربی زبان میں اور دوسری زبانوں میں یہ عام لسانی قاعدہ ہے کہ کبھی کسر کا ذکر کرتے ہیں اور کبھی اس کو حذف کردیتے ہیں۔
اس طرح اور بھی بہت سی مثالیں روایات میں پائی جاتی ہیں۔ بعض لوگ ان کو روایت میں اختلاف سمجھتے ہیں، اور حدیث میں شبہ کرنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ یہ صرف اندازِ کلام کی بات ہے، اور انداز کلام کا یہ طریقہ ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔