میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا ایک مضمون لکھ رہا تھا۔ خیالات مسلسل دماغ میں امنڈ رہے تھے۔ وہ الفاظ کی صورت میں ڈھل کر قلم پر آرہے تھے ،اور کاغذ پر مرتسم (inscription)ہوتے چلے جارہے تھے۔
ایک لمحے کے ليے میرا ذہن اس طرف مڑ گیا کہ یہ سارا عمل کس طرح انجام پارہا ہے۔ یہ سوچتے ہوئے میرے بدن میں کپکپی طاری ہوگئی۔ ایک نفسیاتی دھماکے کے ساتھ میرا قلم رک گیا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیسی عجیب نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ مگر دنیا میں بہت کم لوگ ہیں، بلکہ شاید تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے ہوئے ہیں، جو واقعی معنوں میں اس کا احساس کریں، اور اس طرح شکر ادا کریں، جس طرح شکر ادا کرنے کا حق ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.