Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Auraq-e-Hikmat
Auraq-e-Hikmat

11 اپریل 1985

Urdu · 2 min read

ظہیر فاریابی (ظهیرالدّین ابوالفضل طاهر بن محمد، وفات 1201ء)ایک فارسی شاعر تھا۔ اس نے سلجوقی بادشاہ کی مدح میں قصیدہ لکھا۔ قدیم ایرانی روایت کے مطابق اس میں اس نے زبردست مبالغہ آرائی کی۔ اس قصيدے كا ایک شعر یہ تھا

نه کرسی فلک نهداندیشه زیر پائے تا بوسه بر رکاب قزل ارسلان زند

(خیال کو قزل ارسلان بادشاہ کی رکاب کو بوسہ دینے کے ليے نو آسمانوں کو پاؤں کے ینچے رکھنا پڑا)۔

اس مبالغہ پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے شیخ سعدی (مصلح الدین ابن عبد اللہ شیرازی، وفات 1291ء)نے کہا

other sourceWords of another person or source

چه حاجت که نه کرسی آسمان نهی زیر پائے قزل ارسلان

(اس کی کیا ضرورت ہے کہ تم آسمان کی نو کرسیوں کو قزل ارسلان بادشاہ کے پاؤں کے نیچے رکھو)

مگر شیخ سعدی نے یہ شعر اس وقت کہا تھا جب کہ وہ زیادہ تر سیروسیاحت میں مشغول رہتے تھے، اور آزادانہ زندگی گزارتے تھے۔ اس وقت وہ ہر چیز سے بے نیاز تھے۔ وہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے کہ کسی رئیس یا بادشاہ کی مد ح خوانی کریں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر بعد کے زمانہ میں انھوں نے شیراز میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ اس وقت دوسرے شاعروں کی طرح ان کے تعلقات بھی دربار شاہی سے ہوگئے۔ اس وقت وہ اپنے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔چنانچہ انھوںنے بھی بادشاہوں کی مدح میں مبالغہ آمیز قصیدے لکھے۔ سلطان شیراز، اتابک ابو بکر بن سعد زنگی کی مدح میںوہ اپنے ایک قصیدہ میں کہتے ہیں

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

توئی سایۂ لطف حق بر زمیں پیمبر صفت رحمۃ للعالمیں

(تم ہی زمین پر خدا کی مہربانی کا سایہ ہو، تم پیغمبر کی طرح دنیا والوں کے ليے رحمت ہو)

اکثر انسان اپنے حالات کی پیداوار ہوتے ہیں۔ اگر ان کے حالات بدل جائیں تو وہ خود بھی بدل جاتے ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content