Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Auraq-e-Hikmat
Auraq-e-Hikmat

23مارچ 1985

Urdu · 2 min read

اگر مجھ سے یہ پوچھا جائے کہ دنیا میں سب سے زیادہ کیا چیز ہے، تو میں کہوں گا کہ تنقید (criticism)۔ اس کے بعد اگر دوبارہ یہ پوچھا جائے کہ دنیا میں سب سے زیادہ کم کیا چیز ہے، تو دوبارہ میں کہوں گا کہ تنقید۔

کیوں میں ایسا کہتا ہوں کہ دنیا میں تنقید سب سے زیادہ ہے، اور تنقید ہی سب سے کم ہے۔ اس کی وجہ ایک تنقید اور دوسری تنقید کا فرق ہے۔ تنقید کی ایک صورت بے دلیل اظہار رائے ہے، اور دوسری صورت ہے مدلّل تجزیہ۔ بے دلیل اظہار رائے بلا شبہ آج کی دنیا میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے، مگر مدلل تجزیہ اس کی نسبت سے انتہائی حد تک کم ہے۔ بلکہ شاید اس کا وجود ہی نہیں۔

ایک صاحب ایک بار میری کتاب ’’ظہورِ اسلام‘‘ لے گئے۔ پڑھنے کے بعد میںنے ان سے ان کی رائے پوچھی، تو انھوں نے کہا کہ ’’آپ نے لٹھ ماری ہے‘‘۔ میں نے کہا کہ میں نے کسی کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے، دلیل سے لکھا ہے، آپ اس کو لٹھ مارنا کیسے کہتے ہیں۔ مگرانھوں نے نہیں مانا۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کتاب سے کوئی ایک مثال دیجئے، جس میں دلیل سے بات نہ کہی گئی ہو، بلکہ لٹھ ماری گئی ہو۔ مگر انھوں نے کوئی مثال نہیں دی۔ جب میں نے اصرار کیاتو وہ بگڑ گئے۔ اس قسم کی تنقید میرے نزدیک جھوٹی تنقید ہے۔ جو شخص متعین مثال نہ دے سکے، اس کو یہ حق بھی نہیں کہ وہ مجرد اظہار رائے کرے۔

بعض تنقیدیں ایسی ہیں جن میں بظاہر مثال اور تجزیہ ہوتا ہے۔ مگر وہ نہ مثال ہوتی، اور نہ تجزیہ۔ کیوںکہ اس کی بنیاد تمام تر غلط مثال اور ناقص تجزیہ پر ہوتی ہے۔ مثلاً ’’عظمت قرآن‘‘ پہلی بار چھپی تو اس کاٹائٹل سبز رنگ کا تھا۔ اس کو دیکھ کر ایک صاحب نے کہا ’’سبز رنگ قذافی کا رنگ ہے‘‘ اس ليے یہ کتاب قذافی کے پیسہ سے چھپی ہے۔ حالاں کہ یہ سراسر بے بنیاد بات تھی۔ اس کتاب کا کچھ بھی تعلق قذافی سے نہ تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ سچی تنقید دنیا کا سب سے زیادہ مشکل کام ہے، اور جھوٹی تنقید دنیا کا سب سے زیادہ آسان کام۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content