Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Auraq-e-Hikmat
Auraq-e-Hikmat

15مارچ 1985

Urdu · 1 min read

ضمام بن ثعلبہ ایک صحابی ہیں۔وہ اپنے قبیلہ سعد بن بکر کی طرف سے نمائندہ بن کر مدینہ آئے، اور اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد وہ اسلام کے داعی بن کر اپنے قبیلہ کی طرف لوٹے۔ قبیلہ میں پہنچ کر انھوںنے پہلی بات جو کہی وہ یہ تھی کتنے برے ہیں، یہ لات اور عزی، جن کی تم پرستش کرتے ہو۔ قبیلہ کے اندر لات اور عزی کی عظمت بیٹھی ہوئی تھی، انھوں نے کہا ضمام چپ رہو، لات اور عزی کو اس طرح برا مت کہو۔ اس سے ڈرو کہ تم کو برص ہوجائے، تم کو جذام ہوجائے، تم كو جنون ہوجائے۔ ضمام نے کہا خدا کی قسم یہ لات اور عزی نہ ہمارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں، اور نہ ہم کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 574)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لات اور عزی بظاہر پتھر کے بت تھے۔ پھر قوم کے لوگوں نے ایسی بات کیوں کہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پتھر کے مجسمے حقیقۃً ان کے قدیم بزرگوں کے مجسمے تھے۔ ان پـتھروں کے ذریعہ وہ اپنے بزرگوں کو پوج رہے تھے۔ حضرت ضمام سے جو کچھ انھوں نے کہا وہ بدلے ہوئے الفاظ میں یہ تھا  ’’ہمارے بزرگوں کو برا مت کہو، ورنہ تم پر آفت آجائے گی‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی قوموں کی خاص گمراہی ہے۔ وہ پہلے بھی تھی، اور آج بھی پوری طرح باقی ہے۔ قوموں کا یقین جب خدا سے ہٹتا ہے ،تو وہ اکابر اور بزرگوں پر آکر رک جاتا ہے۔ لوگ اپنے اکابر سے وہ عقیدت وابستہ کر لیتے ہیں، جو عقیدت صرف ایک خدا سے ہونی چاهيے۔ یہی وجہ هے کہ ہر دور میں لوگ سب سے زیادہ جس چیز سے برہم ہوتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کے بزرگوں اور اکابر پر تنقید کی جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content