میں نے بطور خود ایک اصطلاح وضع کی ہے، جس کو ميں ڈیگال ازم (Degaulism) کہتا ہوں، اس کا مطلب ہے— کسی لیڈر کا اپنی لیڈری کی قیمت پر قوم کا مستقبل بنانا۔ موجودہ زمانہ میں فرانس کے جنرل ڈیگال کی زندگی اس قربانی کی ایک مثال ہے۔ اس ليے میںنے انھیں کے نام سے ڈیگال ازم کی اصطلاح وضع کی ہے۔
جنرل ڈیگال (1890-1970)موجودہ صدی کے وسط میںفرانس کے حکمراں بنے۔ اس وقت فرانس یورپ کا ’’مر د بیمار‘‘ بنا ہوا تھا۔ فرانس کے افریقی مقبوضات میں آزادی کی تحریکیں چل رہی تھیں۔ ان تحریکوں کو کچلنے میں خود فرانس کچل اٹھا تھا۔ فرانس کے بے شمار جوان مارے گئے تھے، اور اس کی اقتصادیات دیوالیہ کی حد کو پہنچ گئی تھی۔
فرانس کے افریقی مقبوضات اس کے ليے سرمایہ (asset) نہ تھے، بلکہ اس کے ليے بوجھ (liability)بن چکے تھے۔ مگر اس طرح کی چیزیں قوموں کے ليے پرسٹیج (prestige) کا مسئلہ بن جاتی ہیں، اور جو چیز پرسٹیج بن جائے، اس سے دست برداری کے ليے لوگ کسی قیمت پر تیار نہیں ہوتے۔
جنرل ڈیگال نے اس معاملہ کی نزاکت کو محسوس کیا۔ انھوںنے 1950-60 میں افریقہ کی تمام فرانسیسی نوآبادیات کو آزاد کردیا۔ اس کے بعد 1962 میں الجیریا کو بھی آزاد کردیا ،جہاں زبردست تحریک آزادی چل رہی تھی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ جنرل ڈیگال سے سخت برہم ہوگئے ،حتی کہ 1969 میں ڈیگال کو مجبوراً استعفیٰ دینا پڑا۔ اگلے سال جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے جنازے میں صرف چند آدمی شریک تھے۔ مگر جنرل ڈیگال نے خود مر کر فرانس کو زندگی دے دی۔ اس کے بعد فرانس تیزی سے آگے بڑھنا شروع ہوا، یہاں تک کہ آج فرانس یورپ کا طاقتور ترین ملک شمار ہوتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.