طب نبوی پر تقریباً ایک درجن کتابیں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں صحت اور امراض كے علاج کے بارے میں جو کچھ فرمایا، ان کو محدثین نے اپنی کتابوں میں جمع کردیا ہے۔ صحیح بخاری میں بھی کتاب الطب موجود ہے جس میںپچاسی ابواب ہیں۔ آخری باب کا عنوان ہےبَابُ إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي الإِنَاءِ (باب جب مکھی برتن میںگرجائے)۔
ایک روایت اس سلسلہ میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار حضرت عائشہ کے پاس عیادت کے لیےآئے۔ اس وقت آپ نےکہا عائشہ، سب سے اچھی دوا پرہیز ہے، اور معدہ بیماری کا گھر ہے (الأَزْمُ دَوَاءٌ، وَالمَعِدَةُ بَيْتُ الدَاءِ)الطب النبوی للذہبی، صفحہ 102۔
یہ دو لفظ میں صحت اور تندرستی کا خلاصہ ہے۔ اگر آدمی کھانے پینے میںاحتیاط کا طریقہ اختیار کرے۔ اور معدہ میں ضرورت سے زیادہ غذا نہ بھرے، تو وہ، ان شاء اللہ، مستقل طورپر صحت مند رہے گا۔ اس کو نہ ڈاکٹروں کی ضرورت ہوگی، اور نہ خرابی صحت کی شکایت کی نوبت آئے گی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔