حضرت مسیح علیہ السلام بلاشبہ خدا کے پیغمبر تھے مگر آپ کا تذکرہ عیسائیوں کی مقدس کتاب کے باہر کہیں موجود نہیں۔ اس بنا پر بہت سے اہلِ علم حضرات، مسیح کو غیر تاریخی شخصیت قرار دیتے ہیں۔کسی شخص کے تاریخی شخص ہونے کا ایک معیار یہ ہے کہ اس کا ذکر معاصر تاریخ (contemporary history) میں موجود ہو۔چنانچہ عیسائی علما نے بے شمار کوشش کی کہ وہ حضرت مسیح کی معاصر تاریخ میں آپ کا تذکرہ حاصل کرسکیں مگر اس میں انھیں کامیابی نہیں ہوئی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت مسیح کے بارے میں غیر مذہبی ریکارڈ (secular records) نہیں ملتا۔ پیغمبرعیسی کے زمانے کی غیر مسیحی تحریروں میں براہِ راست ان کا کوئی ذکر نہیں۔ تاہم بےپناہ تلاش کے بعد موجودہ زمانے میں بعض بالواسطہ حوالے معلوم کیے گئے ہیں۔ مثلاً بعد کےکچھ یہودی ربّی کی تحریروں میںاس قسم کے جملے دریافت کیے گئے ہیں — فلسطین میںایک جادو گر کا ظہور ہوا تھا تاہم یہ تحریر بھی پہلی صدی عیسوی کی ہے یعنی حضرت مسیح کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد کی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.