Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Auraq-e-Hikmat
Auraq-e-Hikmat

14فروری 1985

Urdu · 1 min read

قدیم عرب شعرا کے یہاں ایسے اشعار ملتے ہیں،جن میں بڑی حکمت کی باتیں ہوتی ہیں۔ مثلاً

سَبَكْنَــاهُ وَنَحْـسَـــبُهُ لُجَيْـــنًا

فَأَبْدَى الكِيرُ عَنْ خُبْثِ الحَدِيدِ

یعنی ہم نے اس کو پگھلایا، اور اس کو چاندی سمجھتے تھے، مگر بھٹی نے ظاہر کیا کہ وہ زنگ آلود لوہا ہے۔

اس شعر میں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ انسان بظاہر اچھا دکھائی دیتا ہے، مگر جب تجربہ ہوتا ہے، اسی وقت معلوم ہوتا ہے کہ کون کیا ہے، اور کون کیا نہیںہے۔اسی طرح ایک شعر یہ ہے

وَكَمْ عَلَى الأَرْضِ مِنْ خُضْرٍ وَيَابِسَةٍ

وَلَيْسَ يُـــرْجَمُ إِلَّا مَا لَـــهُ ثَمَـــرٌ

یعنی زمین پر کتنی ہی تر اور خشک چیزیں ہیں، مگر پتھر اسی پر مارے جاتے ہیں جس میں پھل ہوں۔

اس شعر میںشاعر زندگی كي اس حقیقت کو بتاتا ہے کہ جس انسان کے پاس کچھ ہو، اسی کے اوپر لوگ یورش کرتے ہیں، جس کے پاس کچھ نہ ہو اس کے اوپر کوئی یورش نہیں کرے گا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.