ٹھیک سات سال پہلے 6 فروری1979 کو میں نے حسب ذیل سطریں لکھی تھیںمکہ میں جب خدا کے دشمنوں نے خدا کے رسول کو گھر سے بے گھر کرنے کا منصوبہ بنایا تو خدا نے اپنے رسول کے لیے دوسرا زیادہ بڑا دروازہ کھول دیا۔ اس نے مدینہ کو اسلامی دعوت کا مرکز بنادیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص سنت ہے۔ وہ ایک کو حق کا راستہ روکنے کا مجرم ثابت کرکے دوسرے کو حق کا استقبال کرنے کا اعزاز دیتا ہے۔ وہ ایک کو ڈسکریڈٹ (discredit) کرکے دوسرے کو کریڈٹ (credit) عطا فرماتا ہے (6 فروری، 1979)۔
یہ سطریں میں نے ایک مسلم ادارے میں رہتے ہوئے لکھی تھیں، جب کہ ادارے والے مجھ کو بے گھر کرنے اور میرے مشن کو برباد کرنے کے لیے اپنی آخری کوشش کررہے تھے ،اور میں بظاہر بے بس بنا ہوا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے راستہ کھولا۔ آج میں دوبارہ یہ سطریں نظام الدین کے اسلامی مرکز میں لکھ رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا معجزہ دکھایا۔ الرسالہ بھی خدا کے فضل سے زندہ رہا اور میں بھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.