Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Auraq-e-Hikmat
Auraq-e-Hikmat

31جنوری 1985

Urdu · 1 min read

ایک مجذوب تھے۔ وہ گندی حالت میں سڑکوں پر پڑے رہتے تھے۔ لوگ ان سے کچھ کہتے تو ان کا جواب ہمیشہ صرف ایک ہوتا تھاحرام کھاؤ، چوری کرو، ماں پر سوؤ۔

لوگ حیران رہتے کہ مجذوب صاحب اس قسم کی الٹی بات کیوں کہتے ہیں۔ تاہم مجذوب صاحب نے کبھی اس کی تشریح نہیں کی۔ کوئی شخص ان الفاظ کا مطلب پوچھتا تو وہ بگڑ جاتے۔ مجذوب اسی طرح کہتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا۔

مجذوب صاحب کے ایک معتقد سے میری ملاقات ہوئی۔ انھوںنے کہا کہ میں برسوں تک مجذوب صاحب کے الفاظ پر سوچتا رہا۔ آخر کار میری سمجھ میں آگیا کہ وہ کیا کہتے تھے۔ ان کا مطلب تھاغصہ کھاؤ، چھپ کر عبادت کرو، زمین پر سوؤ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلام توہم پرستی کو مٹانے آیا تھا مگر بعد کے زمانے میں خود مسلمان طرح طرح کے توہمات میں مبتلا ہوگئے۔ انھیں میں سے ایک ’’مجذوب‘‘ کا عقیدہ بھی ہے۔شریعت میںمجذوب کوئی چیز نہیں۔ مگر لوگ جب کسی کو غیر معمولی حالت میں دیکھتے ہیںتو سمجھ لیتے ہیں کہ یہ کوئی مجذوب (پہنچے ہوئے شخص ) ہیں، اور اس کی پرستش شروع کردیتے ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content