سوامی پورن جی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو گرو ہیں۔ وہ یورپ میں اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ایک سفر کے دوران روم سے دہلی تک ہوائی جہاز میں ان کا ساتھ رہا۔ اس کے بعد ان کے کئی ٹیلیفون آئے یہاں تک کہ مندرجہ ذیل مقام پر ان سے ملاقات ہوئی
Suit 2025, Hotel Sentaur, New Delhi
میںنے سوامی پورن جی سے کہا کہ آپ کے نزدیک سچائی کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سچائی کوئی ایک معلوم چیز نہیں۔ میںنے کہا کہ جب سچائی کوئی ایک معلوم چیز نہیں تو آپ اپنے سفروں میں کس چیز کا پرچار کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں لوگوں کو یہ نہیں بتاتا کہ سچائی کیا ہے۔ میں یہ بتاتاہوں کہ وہ کون سا پراسس ہے جس کو فالو(follow) کرکے تم سچائی تک پہنچ سکتے ہو۔
میںنے دوبارہ ان سے سوال کیا کہ سچائی اگر چہ آپ کے نزدیک معلوم چیز نہیں مگر آپ کے بیان کے مطابق سچائی کا پراسس ضرور ایک معلوم چیز ہے۔ جبھی تو آپ اس کا پرچار کرتے ہیں۔ پھر آپ کے نزدیک وہ کرائٹیرین (criterion) کیا ہے، جس پر جانچ کر ہم یہ معلوم کرسکیں کہ آپ کا تجویز کردہ پراسس درست ہے۔ سوامی جی اس کا کوئی واضح جواب نہ دے سکے۔ کچھ دیر گفتگو ہوتی رہی۔ آخر میں ان کو الرسالہ انگریزی پیش کیاگیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔