Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Auraq-e-Hikmat
Auraq-e-Hikmat

ابتدائیہ

Urdu · 2 min read

پیش لفظ

ڈائری کا مقصد عام طور پر ذہن میں آنے والے مختلف خیالات کو درج کر لینا ہوتا ہے۔ زندگی کے مختلف تجربات ہمیں مختلف احساسات سے گزارتے ہیں۔اس سلسلے میں ڈائری ایک قابلِ‌بھرو‌سہ ساتھی ثابت ہو سکتی ہے۔ تجرباتِ زندگی کو ڈائری میں درج کر لینے سے وہ آپ کے پاس رہتے ہیں۔ ڈائری لکھنے کا ایک سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو کتنا ڈیولپ کیا ہے۔ یہ چیز ایک انسان اپنی ڈائری کے ذریعے بخوبی معلوم کرسکتا ہے۔

عام طور پر یہ کام لوگ نوٹ پیڈ والی ڈائری میں کرتے ہیں۔ حالانکہ اب ڈیجیٹل دور میں بہت سے لوگ لیپ ٹاپ، فون یا آئی پیڈ میں بھی لکھنا پسند کرتے ہیں۔ مولانا کا معمول ڈائری لکھنے کا رہاہے۔ وہ دوسروں کو بھی ڈائری لکھنے کا مشورہ دیا کرتے تھے۔ بلکہ کئی لوگوں کو اپنی طرف سے ڈائری دی تھی تاکہ وہ ڈائری لکھنا شروع کریں۔ پہلے مولانا متفرق طور پر یادداشتیں لکھ لیا کرتے تھے۔ لیکن یکم جنوری 1983سے انھوں نے مستقل طورپر ڈائری maintain کی ہے۔وہ بلاناغہ ہر روز ڈائری کا ایک صفحہ لکھتے تھے، یا بعد کے زمانے میں لکھوایا کرتے تھے۔ اس طرح مولانا کی ڈائریوں کا ایک بڑا ذخیرہ اکٹھا ہو گیا ہے۔اسی کے ایک جزء(ڈائری 1985) کو پہلے الرسالہ کے مختلف شماروں میں متفرق طور پر شائع کیا گیا تھا،اب اوراقِ حکمت کے نام سےاس کو کتاب کی صورت میں شائع کیا جارہا ہے۔

یہ ’’ڈائری‘‘ معروف معنوں میں مولاناکی ذاتی زندگی کا کوئی روزنامچہ نہیں ہے۔ اس کومولانا کے فکری سفرکا روزنامچہ کہا جاسکتا ہے۔ اکثر لوگ ملاقات کے لیے آتے تھے، ان سے بات چیت کے دوران کوئی سبق آموز واقعہ معلوم ہوتا تو مولانا اس کو اسی وقت ڈائری میں ریکارڈ کرلیتے تھے۔ کئی بار مجھے ڈکٹیشن (dictation)دیتے تھے۔ اس طرح مختلف قسم کے تجربات ڈائری کے صفحوں پر محفوظ ہوگئے ہیں۔ لہٰذا ڈائری ان سبق آموز واقعات کا ایک مجموعہ ہے، جو مولانا نے مختلف طریقوں سے اخذ کیا ہے۔

نئی دہلی،1 اکتوبر 2021 ڈاکٹر فریدہ خانم، نئی دہلی

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.