Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Asmaay-e-Husna
Asmaay-e-Husna

ایک واقعہ

Urdu · 5 min

میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی، انہوں نے کہا کہ میں 10 سال سے ایک سوال کا جواب تلاش کر رہا ہوں، لیکن اب تک مجھے اس کا جواب نہیں ملا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کا وہ کیا سوال ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اسم اعظم کیا ہے۔ اس سلسلے میں میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں، بہت سے علماء اور بزرگوں سے ملاقاتیں کیں، مگر اب تک کسی نے اس کا تشفی بخش جواب نہیں دیا۔

اب میں آپ کے پاس آیا ہوں، اگر ممکن ہو تو آپ مجھے اس کا جواب دے کر میری پریشانی کو دور فرمائیں۔ میں نے کہا، آپ کی پریشانی ایک خود ساختہ پریشانی ہے۔ آپ نے یہ فرض کر لیا ہے کہ اسم اعظم جادو کے منتر کی طرح کوئی منتر ہے۔ اب آپ چاہتے ہیں کہ منتر کا وہ لفظ آپ کو معلوم ہو جائے، مگر ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔

میں نے کہا کہ اسم اعظم کسی لفظ کا نام نہیں ہے، بلکہ کیفیت کا نام ہے۔ کیفیتِ اعظم کے ساتھ جو دعا کی جائے، وہی اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنا ہے۔ یہ دراصل آپ کی اپنی قلبی کیفیت ہے، جو کسی دعا کو اسم اعظم کی دعا بناتی ہے۔ کسی انسانی لفظ میں یہ طاقت نہیں کہ وہ خدا کا اسم اعظم بن جائے۔

وہ خدا کی لامحدود ہستی کا احاطہ کر لے۔ میں نے کہا کہ آپ ہی کی طرح کا ایک شخص تھا، اس کو ایک خزانے کی تلاش تھی۔ اس کو معلوم ہوا کہ یہ خزانہ فلاں پہاڑ کی چوٹی پر ایک محل کے اندر رکھا ہوا ہے۔ اس محل کے گیٹ پر ایک تالا لگا ہوا ہے۔

یہ تالا کسی کنجی سے نہیں کھلتا، بلکہ وہ ایک منتر سے کھلتا ہے۔ اب اس کو اس منتر کی تلاش ہوئی، ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ ایک جگہ پہنچا۔ یہاں اس کی ملاقات ایک سادھو سے ہوئی، جو اس منتر کو جانتا تھا۔ اس نے سادھو سے درخواست کی کہ وہ اس کو یہ منتر بتا دے۔

سادھو نے اس کو وہ منتر بتا دیا۔ سادھو نے کہا کہ وہ منتر "سمسم" ہے۔ تم فلاں پہاڑ کی چوٹی پر جاؤ، وہاں تم کو ایک محل ملے گا۔ اس محل کے گیٹ پر ایک تالا لٹکا ہوگا۔

تم اس کے سامنے کھڑے ہو کر کہنا: "کھل اے سمسم، کھل اے سمسم"۔ پھر وہ تالا کھل جائے گا۔ وہ آدمی روانہ ہوا۔ لمبے سفر کے بعد وہ محل کے گیٹ پر پہنچا، مگر اس وقت وہ منتر کو بھول چکا تھا۔

وہ گیٹ کے سامنے کھڑا ہو کر دوسرے دوسرے الفاظ بولتا رہا، مگر "کھل اے ٹم ٹم، کھل اے دم دم، کھل اے بم بم"۔ مگر دروازہ نہیں کھلا۔ اب وہ وہاں سے واپس ہو کر دوبارہ سادھو کے پاس گیا۔ سادھو نے کہا کہ تم غلط منتر بول رہے تھے، اس لیے تالا نہیں کھلا۔

دوبارہ جاؤ اور "سمسم" کہو۔ آدمی نے منتر کو خوب اچھی طرح یاد کر لیا اور سفر کر کے دوبارہ وہاں پہنچا۔ اس نے محل کے گیٹ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا: "کھل اے سمسم" اور پھر فوراً دروازہ کھل گیا۔ اکثر لوگ اسم اعظم کو اسی قسم کا ایک طلسماتی لفظ سمجھتے ہیں، مگر اس قسم کی سوچ بالکل غلط ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اسم اعظم ڈکشنری کے کسی لفظ کا نام نہیں، وہ انسان کی اپنی داخلی کیفیت کا نام ہے۔ جب بھی کوئی سچا بندہ اعلیٰ قلبی کیفیات کے ساتھ دعا کرتا ہے، تو اس کو فرشتوں کی مدد حاصل ہو جاتی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.