ہے؟ دعا کسی ٹیکنیکل واقعے کا نام نہیں، دعا ایک داخلی طوفان کا خارجی اظہار ہے۔ جب ایک انسان خدا کو اس کی عظمت و کبریائی کے ساتھ دریافت کرتا ہے، جب ایسا ہوتا ہے کہ خدا کے بارے میں سوچتے ہوئے اس کو خدا کی موجودگی کا اتنا شدید احساس ہوتا ہے کہ گویا وہ خدا کے پڑوس میں پہنچ گیا ہے، جب اس پر وہ طوفانی تجربہ گزرتا ہے جس کو حدیث میں «ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًّا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ» البخاری، کتاب الرقاق کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی آدمی نے اپنی تنہائی میں خدا کو یاد کیا، اور شدتِ تاثر سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔
اس نے دنیائے امتحان کے بارے میں سوچا، اس نے موت اور روزِ حساب کا گہرا ادراک کیا، وہ ان ربانی کیفیات سے گزرا جبکہ انسان کو جہنم کے شعلے بھڑکتے ہوئے نظر آتے ہیں، اور دوسری طرف اس کو جنت کے ابدی مناظر دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جب اس پر یادِ خداوندی کا وہ گہرا تجربہ گزرتا ہے، جبکہ سب کچھ اس کی نظروں سے محو ہو جاتا ہے، خدا کے سوا ہر چیز اس کی نظر میں بے حقیقت بن جاتی ہے۔ ایسے طوفان خیز لمحات میں یہ ہوتا ہے کہ اس کے دل و دماغ میں ایک بھونچال آ جاتا ہے۔ اس کے دل و دماغ میں ایک بھونچال آ جاتا ہے۔
اس کی آنکھوں سے خوفِ خدا کا سمندر امڈ پڑتا ہے، جب سوچنے کی صلاحیت بظاہر ختم ہو جاتی ہے اور صرف محسوس کرنے کی صلاحیت باقی رہتی ہے۔ اس وقت ایسا ہوتا ہے کہ انسان بے تابانہ طور پر اپنے رب کو پکارنے لگتا ہے۔ اس کے اندر چھپی ہوئی ربانی فطرت، الفاظ کی صورت میں بہہ پڑتی ہے۔ ایسے طوفانی لمحات میں آدمی کی زبان سے جو کچھ نکلتا ہے، اسی کا نام دعا ہے۔
یہی وہ دعا ہوتی ہے جو اسمِ اعظم کی زبان میں نکلتی ہے، اور ایسی دعا ہمیشہ اپنی پہلی زبان میں ہوتی ہے، نہ کہ اپنی دوسری زبان میں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.