Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Asmaay-e-Husna
Asmaay-e-Husna

اسمائے حسنیٰ اور انسان

Urdu · 2 min

اگر ایک ایسی کتاب لکھی جائے جس میں کمیونیکیشن کی تاریخ بتائی گئی ہو، اس کتاب میں نامہ بر کبوتر، ٹیلیگراف، ٹیلی فون، اور موبائل جیسے نام ہوں۔ اس کتاب کو ایک شخص پڑھے، خواہ وہ کتاب کی زبان سے بخوبی واقف ہو۔ لیکن اگر نامہ بر کبوتر، ٹیلیگراف، ٹیلی فون، اور موبائل جیسی چیزوں کو اس نے دیکھا نہ ہو، تو وہ ان چیزوں کی حقیقت کے بارے میں کچھ نہ جان سکے گا۔

اس قسم کی کوئی کتاب ایک واقف کار انسان کے لیے ایک معلوماتی کتاب ہے، لیکن ایک ناواقف انسان کے لیے وہ صرف ایک معمہ بن کر رہ جائے گی۔ ایسا ہی کچھ معاملہ اسمائے حسنیٰ کا ہے۔ خدا کے اسمائے حسنیٰ قرآن اور حدیث میں نام بنام بتا دیے گئے ہیں، لیکن ان ناموں کو قرآن اور حدیث میں پڑھ لینا کافی نہیں۔ قرآن اور حدیث میں بیان ہونے کے باوجود یہ تمام نام کسی انسان کے لیے ایک نامعلوم چیز کی دریافت، یعنی ڈسکوری، کی حیثیت رکھتے ہیں۔

کوئی آدمی ان ناموں کی حقیقت کو صرف اس وقت جان سکتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ ذاتی دریافت کی سطح پر ان کا علم حاصل کر چکا ہو۔ ذاتی دریافت کے بغیر یہ نام کسی آدمی کے لیے صرف رسمی نام ہوں گے، نہ کہ معرفتِ خداوندی کا خزانہ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.