قرآن میں خدا کے جو اسمائے حسنیٰ بتائے گئے ہیں، ان میں سے ہر نام ہم کو غور و فکر کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس دیتا ہے۔ ان ناموں کے ذریعے ہم کو ایک متعین رہنمائی مل جاتی ہے، جس کو لے کر ہم خدا کی ہستی کا تصور کر سکیں اور اس کی مختلف صفات، یعنی attributes، کا تصور کرتے ہوئے خدا کی ہستی سے متعین نوعیت کا ذہنی رشتہ قائم کر سکیں۔ خدا سے اسی تعلق کا نام معرفت ہے، یہی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.