Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Asmaay-e-Husna
Asmaay-e-Husna

سائنسی مطالعہ

Urdu · 3 min

موجودہ زمانے میں فطرت کے سائنسی مطالعے کے بعد خدا کے متعلق یہ فلسفیانہ تصور عملاً بے اصل ثابت ہو چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی مطالعے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کائنات کے اندر کمال درجے میں معنویت، یعنی meaning، پائی جاتی ہے۔ اس قسم کی معنویت اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس کا خالق ایک ذہن، یعنی mind، ہو۔ چنانچہ سائنس میں خدا کا نام نہ لیتے ہوئے یہ مان لیا گیا ہے کہ کائنات کو وجود میں لانے والا ایک ذہین نقاش، یعنی intelligent designer ہے۔

تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ماہنامہ الرسالہ، ستمبر 2007، سائنس اور الٰہیات۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک ایسے خدا کا تصور پیدائشی طور پر موجود ہے جو متنوع صفات کا حامل ہو۔ اس طرح سائنسی مطالعے میں کائنات اگرچہ آخری طور پر ایک ہی یونٹ، یعنی ایٹم، کا مختلف ظہور ہے، لیکن یہ ایٹم حیرت انگیز طور پر مختلف اور متضاد قسم کی بامعنی چیزوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ انسانی فطرت اور خارجی کائنات دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ کائنات میں ایک طرف بہت زیادہ اختلاف اور تنوع ہے، اور دوسری طرف کائنات کے مختلف اجزا میں غیر معمولی ہم آہنگی، یعنی harmony، پائی جاتی ہے۔

ایسی حالت میں انسان کا ذہن یہ چاہتا ہے کہ وہ خدا کی متنوع حیثیتوں کا تصور کر سکے۔ قرآن میں مذکور اسمائے حسنیٰ اسی سوال کا جواب ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.