Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Eik Ebratangez Waqiq

Urdu · 3 min

دوسرے کا اعتراف: مولانا اقبال احمد سہیل غیر معمولی ذہین اور تباہ آدمی تھے۔ وہ اعظم گڑھ میں رہتے تھے، ان کے گھر پر چھوٹے بچوں کی تعلیم کے لیے ایک ماسٹر صاحب مقرر تھے۔ وہ رات دن مولانا سہیل کے گھر پر رہتے تھے اور بچوں کو اردو اور انگریزی وغیرہ پڑھاتے تھے۔ ماسٹر صاحب کا کھانا مولانا سہیل کے گھر سے آتا تھا۔

صبح کے ناشتے میں بعض مرتبہ ایسا ہوا کہ گھر سے ان کے لیے سالن کے ساتھ باسی روٹی آئی۔ ماسٹر صاحب نے لڑکوں سے کہا کہ باسی روٹی مت لایا کرو، باسی روٹی کھانے سے دماغ کمزور ہو جاتا ہے۔ لڑکوں نے گھر میں آ کر اپنی والدہ، اہلیہ مولانا اقبال احمد سہیل سے یہ بات کہی۔ اس کے ساتھ لڑکوں نے یہ بھی کہا کہ ابا تو باسی روٹی بہت کھاتے ہیں، مگر ان کے دماغ میں کمزوری نہیں آئی۔

اہلیہ نے جواب دیا: "تمہارے ابا کا دماغ بہت بڑا ہے، اس میں کچھ کمی آ جائے تب بھی فرق نہیں پڑتا۔ ماسٹر صاحب کا دماغ چھوٹا ہے، وہ ڈرتے ہیں کہ اگر کم ہوا تو ختم ہی ہو جائے گا۔ " ایسا ہی کچھ معاملہ دوسرے کے اعتراف کا ہے۔ اکثر لوگ دوسرے کی لیاقت کا اعتراف نہیں کرتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ڈرتے ہیں کہ دوسرے کی اہمیت کا اقرار کرنے سے اپنی حیثیت گھٹ جائے گی۔

دوسرے کا اعتراف کرنے کے لیے اپنے کو چھوٹا کرنا پڑتا ہے۔ اور کون ہے جو اپنے کو چھوٹا کرنے کی قیمت پر دوسرے کی حیثیت کا اعتراف کرے؟ صرف دو قسم کے لوگ ہیں جو اپنے کو چھوٹا کرنے پر راضی ہوتے ہیں: یا تو وہ لوگ جو اتنے اونچے ہوں کہ کسی کی بڑائی کا اعتراف کرنے سے انہیں یہ ڈر نہ ہو کہ ان کی شخصیت میں کمی آ جائے گی۔ دوسرے وہ لوگ اس کی ہمت کرتے ہیں جنہیں اللہ کی عظمت کے احساس نے پہلے ہی سے اتنا چھوٹا بنا رکھا ہو کہ اب کسی چیز سے انہیں مزید چھوٹا ہونے کا خطرہ نہ رہے۔

کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 443۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.