Maulana Wahiduddin Khan
15 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Tameer, Siasat

Urdu · 15 min

تعمیر سیاست: ابو علی محمد ابن علی مقلا 272 تا 328 ہجری، نہایت اعلیٰ صلاحیت والا آدمی تھا۔ اس نے اپنی غیر معمولی فنکارانہ صلاحیت سے قدیم عربی خط، یعنی خط کوفی، میں مجتہدانہ اصلاحات کیں اور اس کو حسین اور جامع بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ اس نے عربی خط کو ابتدائی دور سے نکال کر تکمیلی دور میں پہنچا دیا۔ فلپ کے ہٹی نے اپنی کتاب "History of the Arabs" میں اس کو عربی فنِ کتابت کا بانی، یعنی Founder of Arabic Calligraphy، کہا ہے۔

صفحہ 468: "Encyclopedia Britannica" نے لکھا ہے کہ ابن مقلا 886 عیسوی میں بغداد میں پیدا ہوا اور 940 عیسوی میں بغداد ہی میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ عباسی دور 750 تا 1258 کا ممتاز ترین خطاط تھا۔ اس نے عربی خط کو کوفی خط کے دور سے نکال کر نسخ خط کے دور میں پہنچایا۔ اس نے عربی خط کو کوفی خط کے دور سے نکال کر نسخ خط کے دور میں پہنچایا۔

اِس طرح اس نے عربی خط کو نیا حسن، یعنی beauty، عطا کیا۔ پیج 272: ابن مقلا ابتداً بغداد میں عباسی حکومت کے ایک دفتر میں 6 دینار ماہوار پر منشی تھا، پھر اس کا فنی کمال اس کو خلیفہ کے دربار تک لے گیا۔ یہاں اس نے اتنی مقبولیت حاصل کی کہ مسلسل 3 بادشاہوں کا وزیر بنتا رہا۔ اولا مقتدر باللہ عباسی، 282 تا 320 ہجری کا، پھر اس کے بھائی قاہر باللہ، 322 ہجری کا۔

اس کے بعد رازی باللہ، 297 تا 329 ہجری کا۔ واضح ہو کہ "وزیر" قدیم زمانے میں وزیراعظم کے ہم معنی ہوتا تھا، کیونکہ بادشاہ کا صرف ایک وزیر ہوتا تھا اور اس کو سارے اختیارات حاصل ہوتے تھے۔ مقتدر باللہ کے ابتدائی زمانے میں حامد ابن عباس وزیر تھا، اس کے ساتھ اس نے علی ابن عیسیٰ الجراح کو نائب وزیر بنایا، تو لوگوں کو سخت تعجب ہوا۔ ایک شاعر کی نظم کا ایک شعر یہ ہے: "أعجب من كل ما رأينا أن وزيرين في بلادي" سب سے عجیب بات جو ہم نے دیکھی وہ یہ کہ ایک ملک میں دو وزیر ہیں۔

الفخری لابن تختخی، صفحہ 263: ابن مقلا کے یہ مناصب اس کے فن کی ترقی میں بے حد مددگار ثابت ہو سکتے تھے۔ اگر ان ملے ہوئے مواقع کو وہ فنِ تحریر اور اس سلسلے کی دوسری چیزوں کی ترقی اور تحقیق میں لگاتا تو نہ صرف یہ کہ عربی رسم الخط بہت پہلے اپنے معراجِ کمال کو پہنچ جاتا، بلکہ ہو سکتا ہے کہ تحریر اور کتاب کے میدان کی بہت سی دوسری ایجادیں، جو اس کے بہت بعد سامنے آئیں، اسی کے زمانے میں وجود میں آ گئی ہوتیں۔ مثال کے طور پر: کاغذ: ابن مقلا سے 800 برس پہلے، 105 عیسوی میں چین میں ایجاد ہوا۔ اس کا ایجاد کرنے والا سائی لون تھا، جو ابن مقلا کی طرح چینی شہنشاہ ہوٹی کا وزیر تھا۔

روسی ترکستان میں عربوں اور چینیوں کی جنگ میں کچھ چینی قیدی جو مسلمانوں کے ہاتھ آئے، وہ کاغذ بنانا جانتے تھے۔ سمرقند میں ان سے کاغذ بنوایا گیا۔ اس کے بعد 795 عیسوی میں دستی کاغذ کی صنعت بغداد میں قائم ہوئی۔ تاہم مشین کے ذریعے کاغذ بنانے کا کام پہلی بار 1750 عیسوی میں ہالینڈ میں کیا گیا۔

مسلسل رول کی شکل میں کاغذ بنانے کی صنعت 1798 عیسوی میں فرانس میں شروع ہوئی۔ اسی طرح پرنٹنگ پریس پہلی بار غالباً چینیوں نے 770 عیسوی میں دریافت کیا۔ یہ ابن مقلا 885 تا 940 عیسوی کی پیدائش سے 115 سال پہلے کا زمانہ تھا۔ پرنٹنگ کا قدیم ترین نمونہ اس سے بھی پہلے، اس سے بھی پہلے، 5ویں صدی عیسوی کا چین میں دریافت ہوا ہے۔

یورپ میں ترقی یافتہ پرنٹنگ پریس 15ویں صدی میں گوئنبرگ نے بنایا اور بائبل چھاپی۔ تاہم مسلم دنیا میں پرنٹنگ پریس نیپولین کے ذریعے 1798 عیسوی میں پہلی بار مصر پہنچا۔ ابن مقلا، جو نہ صرف فنِ تحریر کا ماہر تھا بلکہ حیرت انگیز تخلیقی صلاحیت رکھتا تھا، اگر وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو اپنے میدان میں لگاتا تو کاغذ اور چھپائی اور اس طرح کی دوسری نعمتیں، جو عالم اسلام کو بہت بعد کو ملیں، شاید ابن مقلا کے زمانے ہی میں وہ اس کو مل چکی ہوتیں۔ ابن مقلا ہزار سال پہلے دنیا کو دورِ پریس میں داخل کرنے میں کامیاب ہو جاتا، مگر وہ اس پر قانع نہ رہ سکا کہ اپنے آپ کو اپنے مخصوص میدان میں محدود رکھے۔

وزارت کے ملے ہوئے مواقع کو وہ تحریر اور کاغذ اور چھپائی کی ترقی میں استعمال کر سکتا تھا۔ اس کے برعکس اس نے ان مواقع کو عزت و ناموری کی طرف چھلانگ لگانے کے لیے ایک زینے کے طور پر استعمال کیا۔ اس کے نتیجے میں وہ خود بھی برباد ہوا اور ملت بھی اس قیمتی فائدے سے محروم رہ گئی جو اس کی خداداد صلاحیت کے ذریعے ملت کو پہنچ سکتا تھا۔ ابن مقلا جب وزیر یا وزیراعظم کے منصب پر پہنچ گیا تو اس کے لیے صحیح ترین بات یہ تھی کہ وہ اس اعلیٰ موقع کو تعمیری میدان میں استعمال کرے، مگر وہ حبِ جاہ کی اسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہو گیا جس میں اکثر وہ لوگ مبتلا ہو جاتے ہیں جن کو حالات کسی بلند مقام پر پہنچا دیں۔

اس کے فنی اور تعمیری حوصلے اب سیاسی عزائم میں تبدیل ہو گئے۔ خاموش خدمت میں مشغول رہنے کے بجائے اب وہ خفیہ قسم کی سیاسی اور فوجی تحریکوں کا لیڈر بن گیا۔ اب اس نے چاہا کہ حکومت کے نظام میں اپنے مفید مطلب—انقلاب—لائے۔ اس نے ایک خفیہ منصوبے کے تحت یہ کوشش شروع کر دی کہ خلیفہ قاہرہ باللہ کو تخت سے اتار کر ابو احمد ابن مقتفی کو عباسی سلطنت کا تاج پہنایا جائے۔

کسی چیز کی محبت آدمی کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔ حبك الشيء يعمي ويسمي ابن مقلا بھی اپنی ساری ذہانت کے باوجود اسی کمزوری کا شکار ہوا۔ وہ اپنے حالات کا اور اس کے مقابلے میں خلیفہ کی طاقت کا صحیح اندازہ نہ کر سکا۔ چنانچہ راز کھل گیا۔

ابن مقلا پر یہ الزام لگا کہ اس نے فوجی سردار مونس خادم کے ساتھ مل کر قاہر باللہ کی حکومت کو ختم کرنے کی سازش کی تھی۔ سازش کے انکشاف کے بعد ابن مقلا کا گھر جلوا دیا گیا۔ ابو احمد ابن مقتفی کو دیوار میں چند دیا گیا، چن دیا گیا۔ ابو احمد ابن مقتفی کو دیوار میں چند دیا گیا۔

تاہم ابن مقلا کی ذہانت اس کے کام آئی۔ وہ فرار ہو کر بچ گیا اور اس کے بعد پانچ لاکھ دینار خلیفہ کو نذر کر کے ابو احمد ابن مقتفی کو دیوار میں چند دیا گیا۔ تاہم ابن مقلا کی ذہانت اس کے کام آئی۔ وہ فرار ہو کر بچ گیا اور اس کے بعد پانچ لاکھ دینار خلیفہ کو نذر کر کے دوبارہ وزارت حاصل کر لی۔

مگر اس کے سیاسی عزم نے دوبارہ اس کے لیے مسائل پیدا کیے، یہاں تک کہ رازی باللہ نے اس کو وزارت سے معزول کر کے اس کے گھر میں نظر بند کر دیا اور اس کا دایاں ہاتھ کٹوا دیا۔ بلاشبہ یہ ایک سخت ترین سزا تھی جو کسی فنکار کو دی جا سکتی تھی۔ گھر کی قید میں جو اشعار وہ پڑھا کرتا تھا، اس میں سے ایک شعر یہ تھا: "ليس بادل یمینی لذت عیش یا حیاتی بانت یمینی فبینی" دایاں ہاتھ کٹ جانے کے بعد زندگی میں کوئی لطف نہیں۔ اے میری زندگی!

جب میرا دایاں ہاتھ مجھ سے جدا ہو گیا تو تو بھی جدا ہو گیا۔ الدرر الفرید و بیت القصید جلد 9، صفحہ 61۔ ابن مقلا کی غیر معمولی صلاحیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ جب اس کا دایاں ہاتھ کٹ گیا تو اس نے بایاں ہاتھ بائیں ہاتھ سے لکھنے کی مشق کی، یہاں تک کہ بائیں ہاتھ سے بھی وہ اتنا ہی اچھا لکھ لیتا تھا جیسا وہ دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا۔ پھر اس نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ میں ایک قلم باندھا اور اس سے لکھنے لگا۔

کہا جاتا ہے کہ ہاتھ کٹنے سے پہلے کے خط اور ہاتھ کٹنے کے بعد کے خط میں کوئی تمیز نہیں کر سکتا تھا۔ یہ باکمال انسان اپنے گھر کے خید خانے میں 56 سال کی عمر میں مر گیا۔ ہٹی، صفحہ 424۔ ابن مقلا شاعر بھی تھا۔

اس نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کے ماتم میں بہت سے اشعار موضوع کیے۔ وہ کہتا ہے: "وہ ہاتھ جس نے قرآن کے فلاں فلاں نسخے لکھے، جس نے رسول اللہ کی فلاں فلاں حدیثوں کی کتابت کی، جس نے مشرق اور مغرب میں احکام لکھ کر بھیجے، وہ چوروں کے ہاتھ کی طرح کاٹ دیا گیا۔ " مگر اس دنیا میں اس قسم کے جذباتی الفاظ کی کوئی قیمت نہیں۔ ابن مقلا کی غلطی یہ تھی کہ وہ قرآن اور حدیث لکھنے ہی پر نہیں رکا۔

اس نے حد سے نکل کر ایسے مقام پر اپنا ہاتھ ڈال دیا، اپنا ہاتھ ڈال دیا، جو اس کا مقام نہ تھا۔ اور جو شخص اس طرح حد سے نکل جائے، اس کا اس دنیا میں یہی انجام ہوتا ہے۔ ابن مقلا مر گیا، مگر اس کا کردار آج بھی زندہ ہے۔ آج بھی بہت سے لوگ ہیں جو عین ابن مقلا کے راستے پر چل رہے ہیں۔

وہ اپنے ملے ہوئے مواقع کو تعمیرِ ملت کے بجائے ذاتی جاہ کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ملت کی تاریخ تعمیر کی تاریخ بننے کے بجائے تخریب کی تاریخ بن رہی ہے۔ ماضی کے ابن مقلا کو تاریخ معاف کر سکتی ہے، مگر حال کے ابن مقلا، جو اپنے مناصب کو تعمیرِ جدوجہد میں نہیں لگاتے، بلکہ اشتہاری قسم کے ذاتی عزائم میں اپنے قیمتی مواقع کو برباد کر رہے ہیں، ان کے پاس دوسری بار اس اندوہناک غلطی میں مبتلا ہونے کا کیا عذر ہے؟ کیا انہیں یاد نہیں کہ مومن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا؟

لا یلدغ المومن من جحر واحد مرتين صحیح بخاری، حدیث نمبر 6137۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بہترین صلاحیتیں ہمیشہ سیاسی عزائم میں برباد ہوئی ہیں۔ سیاست بازی کے کام میں عام طور پر وہی لوگ حصہ لیتے ہیں جو قدرت سے اعلیٰ صلاحیت لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ وہ اپنی اعلیٰ صلاحیت کو کسی تعمیرِ خدمت میں لگانے کے بجائے سیاسی حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں بے شمار انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں، بے شمار اقتصادی وسائل برباد ہوتے ہیں، اور عملاً اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ کچھ لوگوں کو لیڈرانہ شہرت حاصل ہو جائے اور عوام کے حصے میں صرف یہ نتیجہ آئے کہ ایک ظالم کی دوسرا ظالم تختِ سلطنت پر بیٹھ گیا ہو۔ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ہے کہ مقابلہ آرائی کی سیاست سے کبھی کوئی حقیقی نتیجہ برآمد ہوا ہو۔ قوم کو اٹھانے کا راز یہ ہے کہ قوم کے رہنما اپنے سیاسی جھنڈے کو نیچا کر لیں۔ انفرادی حوصلوں کا بیج جہاں زمین میں دفن ہوتا ہے، وہیں سے قومی مستقبل کا شاندار درخت اگتا ہے۔

آج ہماری تاریخ کو اسی قسم کی نفسیاتی شہادت کا انتظار ہے، نہ کہ جسمانی قتل اور ہلاکت کا۔ کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 240۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.