دعوت سے غفلت: ترکی میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، وہاں ایک قابلِ لحاظ تعداد عیسائیوں کی بھی ہے۔ ترکی کے سلطان سلیم نے ایک بار ارادہ کیا کہ ترکی کے تمام غیر مسلم باشندوں کو اسلام قبول کرنے کا حکم دے دے۔ جو لوگ اسلام قبول کر لیں وہ ترکی میں رہیں، اور جو لوگ اسلام قبول نہ کریں ان کو ملک سے نکال دیا جائے۔ اس وقت ترکی کے ایک عالم، مفتی جمال، سامنے آئے۔
انہوں نے بادشاہ سے صاف لفظوں میں کہا کہ تمہارے لیے ایسا کرنا جائز نہیں۔ لا يحلُّ لك ذلك. امیر شکیب ارسلان لکھتے ہیں کہ اگر سلطان سلیم کا یہ ارادہ پورا ہو جاتا تو آج ترکی میں عیسائیوں کا وجود نہ ہوتا۔ مگر مفتی جمال نے اس خفت کے ساتھ اس مسئلے کو پیش کیا اور اس کے حق میں ایسی دلیلیں دیں کہ سلطان سلیم کا عزم اس کے بعد ٹھنڈا ہو کر رہ گیا۔
تعلیقات بر مقدمہ ابن خلدون، صفحہ 177۔ اس طرح کی جرات کی مثالیں ہماری جدید تاریخ میں بہت ملتی ہیں، مگر ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ اسی طرح کی قوت اور اہمیت کے ساتھ کسی عالم نے دعوت الی اللہ کے فریضے کی طرف عوام یا اربابِ کار کی اربابِ کار کو توجہ دلائی ہو۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ ہمارے علماء کے ذہن پر فقہی نقطۂ نظر کا غلبہ ہے۔
ہمارا تعلیمی نظام علماء کے اندر جو مزاج بناتا ہے، اس میں فقہی امور تو پوری شدت کے ساتھ ان کے ذہن پر چھا جاتے ہیں، مگر دعوتی امور ان کے ذہن کے خانے میں جگہ نہیں پاتے۔ ہمارے موجودہ نظامِ تعلیم کی بنیاد فقہ پر ہے، نہ کہ دعوت پر۔ اس کا نصاب اور اس کا نظام تمام تر فقہی ضروریات و مسائل کے اعتبار سے بنا ہے۔ دعوتی مسائل و ضروریات کی اس میں کوئی جگہ ہی نہیں۔
ایسی حالت میں یہی ممکن ہے کہ فقہی امور کے بارے میں لوگ بے بے حد حساس ہوں، مگر دعوتی امور کے بارے میں ان کے اندر حساسیت نہ پائی جائے۔ مفتی جمال نے سلطان ترکی سے جو بات کہی، وہ بجائے خود بالکل صحیح تھی۔ لیکن اگر ان کے اندر دعوتی ذہن ہوتا تو سلطان سے وہ یہ کہتے کہ دوسری قوموں کو اسلام کے سائے رحمت میں لانا عین مطلوب ہے، اور اس اعتبار سے تمہارا جذبہ قابلِ قدر ہے۔ مگر یہ کام تم کو تبلیغ و دعوت کے ذریعے کرنا چاہیے، نہ کہ جبر و قوت کے ذریعے۔
کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 185۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.