← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Ghalati ki Islaah
Urdu · 7 min
غلطی کی اصلاح: خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایرانیوں اور مسلمانوں کے درمیان جنگ ہوئی، ابتدائی مقابلے میں ایرانی فوجوں کو شکست ہوئی۔ اس کے نتیجے میں ایرانی گھبرا اٹھے۔ اس وقت رستم ایران کا وزیراعظم تھا، اس نے اپنے فوجیوں کو جمع کر کے مشورہ کیا کہ عربوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے کس ایرانی بہادر کو مقرر کیا جائے۔ سب نے بہمن جادویہ کا نام لیا، چنانچہ رستم نے بہمن جادویہ کو 12,000 فوج، 300 جنگی ہاتھی، اور دوسرے ضروری سامان دے کر عربوں کی طرف روانہ کیا۔
بہمن جادویہ کو جو سامان دیے گئے، ان میں درفش کا ویانی بھی تھا، جس کی نسبت ایرانیوں کا عقیدہ تھا کہ جس فوج کے ساتھ یہ جھنڈا ہو، اس کو کبھی شکست نہیں ہو سکتی۔ یہ واقعہ 13 ہجری، یعنی 635 کا ہے۔ بہمن جادویہ چلتا ہوا دریائے فرات کے کنارے مقام ناطف میں آ کر مقیم ہوا۔ دوسری طرف ابو عبیدہ بن مسعود ثقفی اسلامی لشکر کے ساتھ فرات کے دوسرے کنارے مقام مروحہ میں مقیم تھے۔
بہمن جادویہ نے ابو عبیدہ کے پاس پیغام بھیجا کہ تم دریا پار کر کے ادھر آتے ہو یا ہم دریا پار کر کے تمہاری طرف آئیں؟ ابو عبیدہ ثقفی نے جوشِ شجاعت میں یہ کہلا دیا کہ ہم دریا پار کر کے آتے ہیں۔ اسلامی لشکر نے ایک چھوٹے پل کے ذریعے فرات کو پار کیا۔ جب وہ دوسری طرف پہنچے تو صورتحال یہ تھی کہ پیچھے کی طرف فرات کا چوڑا دریا تھا، جو وسیع جنگی نقل و حرکت میں مانع تھا۔
دوسری طرف سامنے بہمن جادویہ کا مسلح لشکر تھا، جس کے آگے جنگی ہاتھی صف باندھ کر کھڑے ہوئے تھے، اور ان ہاتھیوں پر تیر انداز بیٹھے ہوئے تھے تاکہ وہ لشکرِ اسلام پر بھرپور تیروں کی بارش کر سکیں۔ مسلمان اس وقت گھوڑوں پر تھے، ان کے گھوڑوں نے اس سے پہلے کبھی ہاتھی نہیں دیکھے تھے، چنانچہ ان کے گھوڑے ہاتھیوں کو دیکھ کر بدکنے لگے۔ مسلمانوں نے جب دیکھا کہ ان کے گھوڑے ان کے قابو سے باہر ہو رہے ہیں تو وہ گھوڑوں سے کود کر زمین پر آ گئے اور پیادہ پا لڑنے لگے۔ مگر یہ طریقہ مزید خطرناک ثابت ہوا۔
ہاتھیوں نے جب آگے بڑھ کر مسلمانوں کی صفوں پر حملہ کیا اور انہیں کچلنا شروع کیا تو مسلمانوں کی صفیں درہم برہم ہونے لگیں۔ اس خونی معرکے کی تفصیل بہت لمبی ہے۔ خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کے کئی سردار اور خود ابو عبید مسعود ثقفی کو ہاتھیوں نے اپنے پیروں کے نیچے کچل دیا۔ مسلمانوں نے پیچھے ہٹنا چاہا تو وہاں دریا ان کی راہ میں حائل تھا، چنانچہ بہت سے لوگ دریا میں غرق ہو گئے۔
مسلم فوجیوں کی تعداد اس وقت 9,000 تھی، اس میں سے تقریباً 6,000 افراد جنگ میں کام آ گئے۔ مسلمانوں کی بچی کچی فوج دریائے فرات کے دوسری طرف جمع ہوئی۔ اب ایک صورت یہ تھی کہ ان کے شاعر اور خطیب اٹھتے اور اپنی شکست کو شہادت قرار دے کر اس کو گلوریفائی کرتے، جیسا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان کرتے ہیں۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
اس کے برعکس انہوں نے پورے معاملے پر نظرِ ثانی کی اور اس کا اعتراف کیا کہ دریا کے اس پار میدانِ جنگ بنا کر انہوں نے غلطی کی تھی۔ اب ایک طرف مسلمان مزید فوج جمع کر کے تیاری کرنے لگے، اور دوسری طرف ایرانیوں نے اپنے سردار مہران حمدانی کو سالارِ جنگ بنا کر بہت بڑی فوج کے ساتھ دوبارہ مسلمانوں سے لڑنے کے لیے بھیجا۔ مہران حمدانی جب فرات کے کنارے پہنچا تو اس نے مسلم فوج کے سردار مثنیٰ کو دوبارہ یہ پیغام بھیجا کہ تم دریائے فرات کو پار کر کے ہماری طرف آتے ہو یا ہم دریائے فرات کو پار کر کے تمہاری طرف آئیں؟ مسلم سردار نے دوبارہ وہ غلطی نہیں کی جو پہلی بار ان سے ہو گئی تھی۔
انہوں نے کہلا دیا کہ تم ہی فرات کو پار کر کے۔ انہوں نے کہلا دیا کہ تم ہی فرات کو عبور کر کے ہماری طرف آؤ، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اب دونوں فوجوں میں جب لڑائی ہوئی تو معاملہ برعکس تھا: ایرانی فوج کے پیچھے دریا تھا اور سامنے اسلامی لشکر۔ دوسری طرف اسلامی لشکر کا معاملہ یہ تھا کہ اس کے آگے ایرانی فوج تھی اور پیچھے کھلی ہوئی زمین۔
اس طرح میدانِ مقابلہ ایرانیوں کے خلاف اور مسلمانوں کے موافق ہو گیا۔ ایرانی فوج نے حسبِ سابق زبردست حملے کیے، انہوں نے اپنے ہاتھیوں کو بھی استعمال کیا، مگر آخر کار انہیں شکست ہوئی۔ اسلام کے سپہ سالار مثنیٰ ابن حارثہ نے دریا کے اوپر لکڑی کے پل کو توڑ دیا تھا۔ چنانچہ ایرانی فوج جب پیچھے کی طرف بھاگی تو اس کے لیے اس کے سوا کوئی راہ نہ تھی کہ وہ مسلمانوں کی تلوار سے بچنے کی کوشش میں دریا کی موجوں میں غرق ہو جائے۔
ابن خلدون کی روایت کے مطابق ایرانی لشکر کے تقریباً 100,000 آدمی مقتول ہوئے۔ دوسری طرف مسلمانوں کے لشکر میں جو لوگ اس جنگ میں کام آئے، ان کی تعداد صرف 100 تھی۔ یہ واقعہ رمضان 13 ہجری میں پیش آیا۔ شکست کے بعد فتح کا یہ عظیم واقعہ اپنی غلطی کی اصلاح کا کرشمہ تھا۔
کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 133۔