Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Aqliyat E Islam
Aqliyat E Islam

سائنس کی گواہی

English · 9 min

ڈاکٹر ماریس بکائی(Dr Maurice Bucaille) فرانس کے ایک عیسائی خاندان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے قرآن کے بارے میں ایک کتاب لکھی۔ وہ اولاً فرانسیسی زبان میں1976ء میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد دس زبانوں میں اس کے ترجمے چھپے۔ انگریزی میں اس کتاب کا نام یہ ہے

The Bible, the Quran and Science

اس کتاب میں ڈاکٹر ماریس بوکائی نے دکھایا ہے کہ علم سائنس کے بارے میں قرآن کے بیانات حیرت انگیز طور پر جدید تحقیقات کے مطابق ہیں۔ قرآن اگرچہ دور سائنس سے بہت پہلے پیش کیا گیا،مگر بعد کے زمانہ میں ظاہر ہونے والی علمی حقیقتوں کا اس میں بالکل صحیح بیان موجود ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن ایک برتر ذہن کی تخلیق ہے۔ وہ انسانی ذہن کی تصنیف نہیں(ملاحظہ ہو عظمت قرآن، اور اسلام اور عصر حاضر)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ڈاکٹر ماریس بوکائی کی دوسری کتاب انسان کی پیدائش اور رحم مادر میں اس کے ارتقا کے بارے میں ہے جو کہ ڈاکٹر بکائی کا خاص موضوع ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے دکھایا ہے کہ انسان کی پیدائش کے بارے میں قرآن میں جو بیانات ہیں، وہ جدید تحقیقات کے عین مطابق ہیں، جبکہ ان تحقیقات کے نتائج صرف بیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں انسان کو معلوم ہو سکے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ڈاکٹر بوکائی کی اس دوسری کتاب کا فرانسیسی ایڈیشن1984 ءمیں پیرس سے شائع ہوا۔ 220 صفحات پر مشتمل اس کتاب کے انگریزی ایڈیشن کانام یہ ہے

What is the Origin of Man?

Published by Seghers, 6 Place Saint-Sulpice, 75006 Paris

ڈاکٹر ماریس بکائی اپنی دوسری کتاب میں لکھتے ہیں کہ مجھے فرانس میں یہ بتایا گیا تھا کہ قرآن محمد کی کتاب ہے۔ انھوں نے اس کو بائبل سے کچھ گھٹا کر یا بڑھا کر تیار کر لیا ہے۔ اپنے اس ذہن کی بنا پر میںقدرتی طور پر یہ سمجھتا تھا کہ بائبل کے اندر جو علمی غلطیاں (scientific errors) ہیں، وہ لازماً قرآن کے اندر بھی ہونی چاہئیں(صفحہ157)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مزید یہ کہ محمد کے الہام کا زمانہ610ء سے لے کر632ء تک ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مشرق و مغرب میں ہر طرف علمی تاریک خیالی(scientific obscurantism) کا ذہن چھایا ہوا تھا۔ اس لحاظ سے یہ بھی ہونا چاہیے کہ اس تاریک علمی دور کے اثرات ان کی کتاب میں پائے جا رہے ہوں۔

مگر بعض تجربات کے دوران انھیں معلوم ہوا کہ قرآن کے بیانات اور بائبل کے بیانات میں اگرچہ کئی باتیں مشترک ہیں مگر قرآن حیرت انگیز طور پر اس قسم کی باتوں کا ذکر کرتے ہوئے ان علمی غلطیوں کو حذف کر دیتا ہے جو موجودہ بائبل میں پائی جاتی ہیں۔ اب ان کا تجسس بڑھا۔ یہاں تک کہ قرآن کو براہ راست اس کی اپنی زبان میں سمجھنے کے لیے انھوں نے پچاس سال کی عمر میں عربی زبان سیکھنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد جب انھوں نے قرآن کو براہ راست پڑھا تو انھوں نے حیرت انگیز طور پر پایا کہ بائبل ایک طرف علمی غلطیوں سے بھری ہوئی ہے۔ مگر دوسری طرف قرآن کا حال یہ ہے کہ وہ علمی غلطیوں سے یکسر خالی ہے۔

اگر قرآن محمد کی کتاب ہو اور انھوں نے اس کو بائبل اور وقت کی معلومات کی مدد سے مرتب کیا ہو تو کیا وجہ ہے کہ قرآن میں وہ تمام علمی غلطیاں حذف ہیں جو بائبل میں یا محمدکے زمانہ میں پائی جا رہی تھیں۔ مثلاً بائبل میں انسان کے ظہور کی جو تاریخ دی گئی ہے اس کے لحاظ سے 1981ء کے حساب کے مطابق زمین پر انسان کا ظہور پہلی بار5742 سال پہلے ہوا۔ مگر اس قسم کی بے معنی غلطیاں قرآن میں بالکل نہیں پائی جاتیں(صفحہ 15)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بائبل میں کثرت سے علمی غلطیاں ہیں۔ وہ اتنی واضح ہیں کہ ان کا انکار ممکن نہیں۔ جین گوٹن (Jean Guitton) نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے  بائبل کی علمی غلطیاں انسانی غلطیاں ہیں، کیوں کہ اس وقت انسان ایک بچہ کی مانند تھا اور وہ علمی حقائق سے بے خبر تھا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

The scientific errors in the Bible are the errors of mankind, for long ago man was like a child, as yet ignorant of science (p.152).

ایسی حالت میں محمد کے لیے کیسے ممکن ہوا کہ وہ قرآن کو مرتب کرتے ہوے بائبل کی یا اپنے زمانہ کی غلطیوں کو قرآن سے حذف کر دیں۔ وہ ایسی کتاب تیار کریں جس میں استثنائی طور پر کوئی بھی علمی غلطی موجود نہ ہو(160)۔ مصنف یہ کہتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن محمد کی کتاب نہیں وہ ایک ماورائے انسانی ذہن کی تخلیق ہے۔ علم کی تاریخ ہم کو اس نتیجہ تک پہنچاتی ہے کہ قرآن میں اس قسم کی آیتوں کی موجودگی کی کوئی انسانی توجیہ ممکن نہیں

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

The history of science leads us to conclude that there can be no human explanation for the existence of these verses in Quran (p.188).

قرآن کا یہ استدلالی پہلو قرآن کی اس آیت کی تصدیق ہے جو چودہ سو سال پہلے قرآن میں شامل کی گئی تھی — ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود لوگوں کے اندر بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ قرآن حق ہے۔ اور کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز پر گواہ ہے(41:53)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جو لوگ قرآن کو خدا کی کتاب ماننے کے لیے اس کی سائنسی دلیل چاہتے ہیں، ان کو ڈاکٹر ماریس بکائی کی مذکورہ دونوں کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

قرآن فنی معنوں میں سائنس کی کتاب نہیں، مگر قرآن جن عقائد کو ماننے کی دعوت دیتا ہے، اس کے لیے وہ فطرت کی نشانیوں کو بطور دلیل پیش کرتا ہے۔ یہ فطرت کی نشانیاں کیا ہیں، یہ وہی نیچر ہے جس کا مطالعہ سائنس میں کیا جاتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نیچر قرآن کا موضوع بھی ہے اور سائنس کا موضوع بھی۔ البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ قرآن میں فطرت کے بعض پہلوئوں کا ذکر بطور دلیل آیا ہے۔ جب کہ سائنس میں فطرت کا مطالعہ مستقل فن کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔ مگر قرآن میں جہاں کہیں بھی نیچر کا کوئی حوالہ ہے، وہ بعد کی سائنسی تحقیقات کے مطابق ہے۔ اس مطابقت کی کوئی بھی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو اس خدا کی کتاب مانا جائے جو تمام کھلی اور چھپی باتوں کو جانتا ہے، جس کا علم بیک وقت ماضی، حال اور مستقبل کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content