← Amne AlamAmne Alam
کشمیری قیادت
Urdu · 8 min
کشمیر کے مسئلہ پر میں اس کے آغاز ہی سے سوچتا رہا ہوں ۔ اللہ کی توفیق سے میں نے ابتداء میں اس معاملہ میں جورائے قائم کی تھی وہی رائے آج بھی مجھ کو درست نظر آتی ہے۔ اللہ کے فضل سے اس معاملہ میں مجھے کبھی اپنی رائے بدلنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
مطبوعہ ریکارڈ کے مطابق، اس موضوع پر میں 1968 سے لکھتا رہا ہوں۔ اس کے بارے میں غالباً میری پہلی تحریر وہ ہے جو الجمعیۃ ویکلی میں چھپی تھی۔ یہاں یہ تحریر الجمعیۃ کے صفحات سے لے کر نقل کی جارہی ہے
’’اپنا حق وصول کرنے کا وقت وہ ہوتا ہے جب کہ فیصلے کا سرا اپنے ہاتھ میں ہو۔ مگر ہمارے لیڈر اس وقت ہوش میںآتے ہیں جب کہ ان کا کیس اخلاقی کیس بن چکا ہو‘‘—یہ احساس مجھے اکثر اس وقت ہوتا ہے جب کہ میں کشمیری لیڈر شیخ عبد اللہ کی تقریر پڑھتا ہوں۔ شیخ صاحب ایک مخلص کشمیری ہیں۔ اپنی جرأت اور قربانیوں کی وجہ سے وہ بجا طورپر شیر کشمیر کہلانے کے مستحق ہیں۔ مگر ان کی موجودہ کشمیری مہم مجھے مشتے بعد از جنگ سے زیادہ نظر نہیں آتی۔
1947 میں وہ اس پوزیشن میں تھے کہ اگر وہ حقیقت پسندی اختیار کرتے تو اپنا فیصلہ خود اپنی مرضی کے مطابق کرسکتے تھے۔ مگرانہوں نے فیصلے کے وقت کو غیر حقیقت پسندانہ خوابوں میں کھودیا۔ اب جب کہ فیصلہ کا سرا ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے تو وہ چیخ و پکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ اب ان کی چیخ و پکار کی حیثیت محض اخلاقی دہائی کی ہے، اور اخلاقی دہائی اس دنیا میںکوئی وزن نہیں رکھتی۔
ایک نوجوان نے ایک مرتبہ دکان کھولی۔ ابھی انہوں نے زندگی میں پہلی بارقدم رکھا تھا۔ انہیں اندازہ نہ تھا کہ دنیا میں کس قسم کے تحفظات کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ دکان میں ایک معمولی تالا لگانا شروع کیا۔
ایک روز وہ دکان سے اداس حالت میں لوٹے۔ یہ دیکھ کر ایک بزرگ نے پوچھا ’’کیا بات ہے۔ آج اُداس نظر آرہے ہو‘‘۔
’’دکان میں چوری ہوگئی‘‘ ۔ نوجوان نے کہا۔
’’کیسے‘‘
’’تالا معمولی تھا۔ کوئی شخص رات میں کھول کر سامان نکال لے گیا‘‘۔
other sourceWords of another person or source
’’یہ تو تمہاری غلطی تھی‘‘۔
’’جی ہاں۔ اب تجربہ ہوا کہ دکان میںتالا اچھے قسم کا لگانا چاہیے‘‘۔
یہ سن کر بزرگ نے فرمایا—’’یہ بھی کوئی تجربہ کے بعد معلوم ہونے کی چیز ہے۔ جب تم دکانداری کی لائن میں داخل ہوئے تو تمہیں اول دن سے جاننا چاہیے تھا کہ دکان میںتالا مضبوط لگایا جاتا ہے۔‘‘
other sourceWords of another person or source
دکان اور اس طرح کے دوسرے شخصی معاملات میں تو اس کا بھی امکان ہے کہ آدمی ایک بار ٹھوکر کھاکر دوبارہ سنبھل جائے۔ مگر قومی فیصلوں کی نوعیت بالکل جداگانہ ہے۔ شخصی معاملات میں ایک بار نقصان اٹھانے کے بعد یہ بھی امکان رہتا ہے کہ محنت کر کے آدمی دوبارہ حالات کو اپنے موافق بنالے۔ مگر قومی معاملات میں جب فیصلہ کا سرا ایک بار ہاتھ سے نکل گیا تو مسئلہ بے حد پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ پھر تو زمین و آسمان کی نئی کروٹیں ہی اس کو بدل سکتی ہیں۔
قومی قیادت ایک ایسا کام ہے جو ان لوگوں کے کرنے کا ہے جو حال کے اندر مستقبل کو دیکھ سکیں— باقی وہ لوگ جن کی نگاہیں صرف ماضی اور حال تک جاتی ہوں اور مستقبل انہیں صرف اس وقت نظر آئے جب وہ واقعہ بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑا ہو، ایسے لوگ قوموں کی قیادت نہیں کرسکتے۔ البتہ اپنے غیر دانش مندانہ اقدامات سے قوموں کو مسائل میں الجھانے کا فرض ضرور انجام دے سکتے ہیں۔‘‘ (الجمعیۃ ویکلی، نئی دہلی، 14 جون، 1968، صفحہ 4)
اس کے بعد میں اسی انداز سے مسلسل کشمیر کے بارے میں لکھتا رہا ہوں۔ پچھلے 35 سال میں کشمیر کے موضوع پر میں نے جو کچھ لکھا ہے ان کو اگر یکجا کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے گی۔
یہ اللہ کا شکر ہے کہ میری اس طویل کوشش سے ہزاروں کشمیریوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ ہزاروں لوگ جنگجوئی کا مزاج ختم کرکے تعلیم و ترقی کے میدان میں مثبت طورپر سرگرم ہیں۔ اس سلسلہ میں مجھے کشمیریوں کی طرف سے مسلسل خطوط اور ٹیلیفون، وغیرہ ملتے رہتے ہیں جن کی تفصیل یہاں بتانے کی ضرورت نہیں۔
کوئی بھی تحریک بظاہر عوام کی طرف منسوب ہوتی ہے، مگر حقیقۃً وہ لیڈر کی تحریک ہوتی ہے۔ ایک یا چند لیڈر اپنی تقریر وں اور تحریر وںکے ذریعہ عوام کو ابھارتے ہیں اور پھر عوام کے نام سے اپنی لیڈری کی قیمت وصول کرتے ہیں۔ یہ صورت حال لیڈر کی ذمہ داری کوبہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ ایسی حالت میں صرف اسی شخص کو لیڈر شپ کے میدان میں داخل ہونا چاہیے جس نے وہ ضروری تیاری کی ہو جو اس کو لیڈر شپ کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ ضروری تیاری کے بغیر جو شخص لیڈر شپ کے میدان میں سرگرم ہو وہ اللہ کے نزدیک سخت مجرم ہے، خواہ بے شعور عوام کے درمیان اس نے کتنی ہی زیادہ مقبولیت حاصل کرلی ہو۔
کشمیریوں کے لیے آخری وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے لیڈروں سے اوپر اٹھ کر پورے معاملہ پر از سرِ نو غور کریں۔ لیڈروں کے الفاظ کی روشنی میں نہیں بلکہ حقائق کی روشنی میں وہ اپنی زندگی کا نقشہ بنائیں۔ اس کے سوا ان کے لیے کامیابی کی اور کوئی صورت نہیں۔