Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Amne Alam
Amne Alam

کفر اور کافر کا تصور

Urdu · 2 min read

اسی طرح اس معاملہ میں ایک متعلق اصطلاح کفر کی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں میںکفر اور کافر کا جوتصور پایا جاتا ہے وہ قومی یکجہتی کی راہ میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ مگر یہ خیال ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اس کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کفر کے لفظی معنٰی انکار کے ہوتے ہیں اور کافر کا مطلب ہے، انکار کرنے والا۔ یہ دونوں الفاظ قرآن میں پیغمبر کی نسبت سے بولے گئے ہیں، وہ عام لوگوں کی نسبت سے نہیں بولے گئے۔ مزید یہ کہ کفر یاکافر ایک شخصی کردار ہے۔ وہ کسی گروہ کا نسلی یا وراثتی نام نہیں۔ کفر یا انکار کا تحقق کسی کے بارے میں اُس وقت ہوتا ہے جب کہ اُس کے اوپر پیغمبرانہ قسم کی دعوت جاری کی جائے اور اُس کو تکمیل کی حد تک پہنچایا جائے جس کو اتمامِ حجت کہا جاتا ہے۔ اس طرح کی پیغمبرانہ دعوت کے بغیر کسی کے بارے میںیہ کہنا درست نہیں کہ اُس نے کفر یا انکار کا فعل کیا ہے۔

اسی طرح کسی فرد یا مجموعۂ افراد کے بارے میں متعین اور مشخص طورپر یہ اعلان کرناکہ وہ کافر ہوچکے ہیں، عام لوگوں کے لیے جائز نہیں۔ کفر کے فعل کاتعلق حقیقتاً نیت سے ہے اور نیت کا حال صرف اللہ کو معلوم ہے۔ اس لیے متعین اور مشخص طورپر کسی کے بارے میں یہ اعلان کرنا کہ وہ کافر ہوگیا ہے، یہ خالصتاً اللہ کا کام ہے یا اللہ کے دیے ہوئے علم کی بنا پر پیغمبر کا۔ چنانچہ قرآن میںصرف ایک ایسا حوالہ ہے جب کہ قدیم زمانہ کے کچھ لوگوں کو متعین طورپر کافر قرار دے کر کہا گیا کہ قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ (109:1)۔ اس انداز کا مشخص خطاب قرآن میں کسی بھی دوسرے گروہ کے لیے نہیں آیا ہے۔ یعنی قرآن میں اس ایک استثنا کو چھوڑ کر فعل کفر کا ذکر تو ہے مگر مشخص طورپر کسی کو فاعلِ کفر کا درجہ نہیں دیا گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content