Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Amne Alam
Amne Alam

ایک حدیث

Urdu · 9 min

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خطبہ حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ ایک صحابی کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور اپنے زمانہ سے لے کر قیامت تک پیش آنے والی ساری باتیں آپ نے ہم کو بتائیں۔ اس خطبہ میں آپ نے اپنی امت کونہایت شدت کے ساتھ سیاسی بغاوت سے منع کیا۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی حکمراں خواہ تمہارے نزدیک ظالم ہو، وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے اور تمہارا مال چھین لے تب بھی تم اس کی اطاعت کرو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے بعد آپ نے فرمایا  وَإِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ، وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ (سنن ابی داؤد، حديث نمبر4252؛سنن الترمذي، حديث نمبر 2202) یعنی میں اپنی امت پر سب سے زیادہ گمراہ کرنے والے لیڈروں سے خائف ہوں، اور جب میری امت میں تلوار داخل ہوجائے گی تو وہ اس سے قیامت تک اٹھائی نہ جائے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس قسم کی دوسری حدیثوں کی روشنی میں اس حدیث پر غور کیاجائے تو اس کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ سیاسی معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ پر تشدد عمل سے روکا اور پُرامن عمل کی نصیحت کی۔ اس لیے کہ پر تشدد عمل کی روایت اگر ایک بار قائم ہو جائے تو اس کے بعد اُس کو ختم کرنا بے حد مشکل ہوجاتاہے۔

حدیث کی کتابوں میںکثرت سے اس قسم کی روایتیں آئی ہیں جن میں آپ نے حکمراں کے خلاف خروج سے آخری حد تک منع فرمایا ہے۔ اس بنا پر علماء نے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف کسی بھی عذر کی بنا پر بغاوت کرنا حرام ہے۔ (الغلو فی الدین صفحہ 417)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک طرف حاکم کے خلاف متشددانہ سیاست کی یہ مطلق ممانعت ہے۔ دوسری طرف روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا افضل الجهاد من قال کلمۃ حقٍ عندسلطان جائر (سنن النسائي حديث نمبر 4209؛ سنن الترمذي، حديث نمبر 2174؛ سنن ابو داؤد، حديث نمبر 4344؛سنن ابن ماجه، حديث نمبر 4344؛ مسند احمد، حديث نمبر 11143) یعنی افضل جہاد یہ ہے کہ کوئی شخص ظالم بادشاہ کے سامنے حق کی بات کہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان دونوں قسم کی روایات پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ کسی کو کوئی حکمراں شخص ظالم دکھائی دے تب بھی اس کے لیے زیادہ سے زیادہ جس حد تک جانے کی اجازت ہے وہ صرف قولی معنٰی میں اظہار رائے ہے ، نہ کہ عملی معنٰی میں مخالفانہ سیاست چلانا یا حکمراں کو ختم کرنے کی کوشش کرنا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اسلام میں صرف پر امن جدوجہد (peaceful struggle) ہے۔ پر تشدد جدوجہد (violent struggle) کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کی بنا پر اسلام میں جائز نہیں۔

اسلام کی بعد کی تاریخ کا غالباً سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مذکورہ واضح ہدایات کے باوجود بعد کی مسلم نسلوں میں جہاد کے نام پر متشددانہ سیاست کی روایت چل پڑی۔ حتٰی کہ یہ ذہن مسلمانوں پر اتنا زیادہ چھایا کہ دین رحمت (الانبیاء،21:107) ان کے یہاں دین جہاد بمعنٰی قتال بن گیا۔ بعد کی صدیوں میںتیار ہونے والا بیشتر لٹریچر براہ راست یا بالواسطہ طورپر اسی ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بعد کے زمانہ میں قرآن کی جو تفسیریں لکھی گئیں اُن میں اس ذہن کی عکاسی اس طرح ہوئی کہ صبر واعراض کی آیتوں کے بارے میں لکھ دیا گیا کہ قتال کا حکم اُترنے کے بعد یہ آیتیں منسوخ ہوگئیں۔ احادیث جمع کرکے مرتب کی گئیں تو اُن میں کتاب الجہاد تو نہایت تفصیل کے ساتھ درج کیا گیا مگر کتاب الدعوہ والتبلیغ سرے سے کسی کتاب میں شامل نہیں۔ یہی حال فقہ کی تمام کتابوں کا ہے۔ فقہ کی کتابوں میں جہاد اور متعلقاتِ جہاد کے احکام نہایت تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں مگر دعوت اور متعلقاتِ دعوت کے ابواب کسی بھی فقہی کتاب میںقائم نہیں کیے گئے۔

یہی حال بعد کو پیدا ہونے والے تقریباً تمام اسلامی لٹریچر کا ہوا۔ ابن تیمیہ سے لے کر شاہ ولی اللہ تک، اور شاہ ولی اللہ سے لے کر موجودہ زمانہ کے مصنفین تک، کوئی بھی شخص دعوت کے موضوع پر کوئی کتاب تیار نہ کرسکا۔ اگر کسی کتاب کا نام دعوت و تبلیغ ہے تو وہ بھی ایسا ہی ہے جیسے سیاست یا فضائل کی کسی کتاب کا نام دعوت و تبلیغ رکھ دیا جائے۔

اس قسم کے لٹریچر کے تحت مسلمانوں کا جومزاج بنا اُسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں میں ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرنے والے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں اور جو شخص ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کرے وہ اُن میں غیر مقبول ہو کر رہ جاتاہے۔

اسی بنا پر ایسا ہوا کہ امام حسین کے کردار کو تو ہمارے مقررین اور محررین نے خوب نمایاں کیا مگر امام حسن کا کردار نمایاں نہ کیاجاسکا۔صلاح الدین ایوبی کو مسلمانوں کے درمیان زبردست شہرت حاصل ہوئی۔ مگر وہ لوگ جنہوںنے تاتاری غارت گروں کو اسلام میں داخل کرکے انہیں اسلام کا خادم بنایا اُن کا کوئی تذکرہ ہماری تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتا۔ موجودہ زمانہ میں اُسامہ بن لادن جیسے تشدد کی بات کرنے والے لوگ نہایت آسانی سے مسلمانوں کے درمیان ہیرو بن جاتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص امن اور احترامِ انسانیت کی بات کرے تو وہ مسلمانوں کے درمیان عمومی قبولیت حاصل نہ کرسکے گا۔

اس ذہن کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عام انسانیت مسلمانوں کا کنسرن (concern) ہی نہ رہی۔ مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ خداکے بندوں کو وہ ’’اپنی قوم‘‘ اور ’’غیر قوم‘‘ میں تقسیم کرکے دیکھنے لگے۔ دعوتی طرزِ فکر کے مطابق، مسلمان اور غیر مسلم داعی اور مدعو قرار پاتے ہیں۔ اس کے برعکس جہادی (بمعنٰی قتالی) طرزِ فکر میں یہ ہوتا ہے کہ مسلمان دوسروں کو اپنا حریف اور رقیب سمجھنے لگتے ہیں۔

مغربی قوموں کے استیلاء کے بعد یہ فرق بہت زیادہ بڑھ گیا۔مسلمانوں کو محسوس ہوا کہ مغربی قوموں نے اُن سے اُن کا برتری کا مقام چھین لیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ رقابت مزید اضافہ کے ساتھ نفرت بن گئی۔ مسلمان عام طورپر دوسری قوموں کو دشمن کی نظر سے دیکھنے لگے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content