← Amne AlamAmne Alam
جہاد کیا ہے
Urdu · 10 min
جہاد کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان جہاد کے نام پر جو کچھ کررہے ہیں، وہ جہاد نہیں ہے۔ یہ سب قومی جذبات کے تحت چھیڑی ہوئی لڑائیاں ہیں جن کو غلط طورپر جہاد کا نام دے دیا گیا ہے۔
جہاد اصلاً پُر امن جدوجہد کا نام ہے، وہ قتال کے ہم معنٰی نہیں۔ کبھی توسیعی استعمال کے طورپر جہاد کو قتال کے مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ مگر لغوی مفہوم کے اعتبار سے جہاد اور قتال دونوں ہم معنٰی الفاظ نہیں۔ یہاں اس سلسلہ میں قرآن و حدیث سے جہاد کے بعض استعمالات درج کیے جاتے ہیں
1۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہےوَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا( 29:69)۔ یعنی جن لوگوں نے جہاد کیا ہماری خاطر تو ہم اُن کو اپنی راہیں دکھائیں گے۔اس آیت میںتلاشِ حق کو جہاد کہاگیا ہے۔ یعنی اللہ کو پانے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی قربت ڈھونڈھنے کے لیے کوشش کرنا۔ ظاہر ہے کہ اس جہاد کا قتال یا ٹکراؤ سے کوئی تعلق نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2۔ اسی طرح قرآن میںارشاد ہوا ہے وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ( 49:15)۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے مال سے جہاد کیا۔ اس آیت کے مطابق، اپنے مال کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنا ایک جہادی عمل ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
3۔ اسی طرح قرآن میںارشاد ہوا ہےوَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا(25:52)۔ یعنی غیرمومنین کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کرو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے پُر امن جدوجہد کرو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
4۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ (مسند احمد، حديث نمبر 23967)۔ یعنی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نفس کی ترغیبات سے لڑکر اپنے آپ کو سچائی کے راستہ پر قائم رکھنا جہاد ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ لڑائی داخلی طورپر نفسیات کے میدان میں ہوتی ہے، نہ کہ خارجی طورپر کسی جنگ کے میدان میں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
5۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نِعْمَ الجِهَادُ الحَجُّ (صحيح البخاري، حديث نمبر 2876)۔ یعنی حج کیا ہی اچھا جہاد ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حج کا عمل ایک مجاہدانہ عمل ہے۔ حج کو مطلوب انداز میں انجام دینے کے لیے آدمی کو سخت جدو جہد کرنی پڑتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
6۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی خدمت کے بارے میں فرمایافَفِيهِمَا فَجَاهِدْ(صحيح البخاري، حديث نمبر 3004)۔ یعنی تم اپنے والدین میںجہاد کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کی خدمت کرنا جہاد کا ایک عمل ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس طرح کی مختلف آیتیں اور حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کا عمل اصلاً ایک پُرامن عمل ہے۔ وہ کسی مطلوب خدائی کام میں پُر امن دائرہ کے اندر جدوجہد کرنا ہے۔ جہاد کے لفظ کا صحیح ترجمہ پُر امن جدو جہد (peaceful struggle) ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ُعسر میں ُیسر
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ بیشک عسر کے ساتھ یُسر ہے (الانشراح، 94:5-6)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا فطرت کے جس قانون پر چل رہی ہے اُس کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہاں ہمیشہ مشکل کے ساتھ آسانی موجود رہے۔ یہاں ہمیشہ رکاوٹ کے ساتھ نکاس کا راستہ باقی رہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیامیںامن کی حالت کو مسلسل قائم رکھنے کا راز کیا ہے۔ وہ ہے— رکاوٹوں سے ٹکرائے بغیر اپنا راستہ نکالنا۔ انسانی سماج میں امن ختم ہونے کا سبب ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ افراد یا جماعتوں کے راستہ میں جب بھی کوئی رکاوٹ آتی ہے تو وہ یہ چاہنے لگتے ہیں کہ رکاوٹ کو توڑ کر اپنے لیے ہموار راستہ بنائیں۔ یہی مزاج امن شکنی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اس لیے لوگوں کو یہ تعلیم دی گئی کہ کوئی مشکل پیش آجائے تو تم اُس کو رکاوٹ نہ سمجھو بلکہ یہ یقین رکھو کہ جہاں مشکل ہے وہیں آسانی بھی ہے۔ جہاں سفر بظاہر رُک رہا ہے، وہیں سے نئے سفر کا آغاز بھی ہوسکتا ہے۔
آپ کسی پہاڑ کے دامن میں کھڑے ہوں تو آپ دیکھیں گے کہ پہاڑ کی چوٹی سے چشمے جاری ہو کر تیزی سے میدان کی طرف بہہ رہے ہیں۔ ان چشموں کے راستہ میں بار بار پتھر آتے ہیں جو بظاہر چشمہ کا راستہ روکنے والے ہیں۔ مگر کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی پتھر کسی چشمہ کا راستہ روک دے۔
اس کا سادہ راز، ایک لفظ میں، اعراض ہے۔ یعنی ٹکراؤ سے بچ کر اپنا راستہ نکالنا۔ چنانچہ جب بھی چشمہ کے سامنے کوئی پتھر آتا ہے تو ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر چشمہ یہ کرتا ہے کہ دائیں یا بائیں مڑ کر اپنا راستہ نکال لیتا ہے اور آگے کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ وہ راستہ کے پتھر کو ہٹانے کے بجائے خود اپنے آپ کو ہٹا لیتا ہے۔ اس طرح کسی ٹھہراؤ کے بغیر چشمہ کا سفر برابر جاری رہتا ہے۔
یہ فطرت کا سبق ہے۔ اس طرح فطرت عمل کی زبان میں انسان کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ مشکلات سے ٹکرانے کے بجائے مشکلات کو نظر انداز کرو۔ رکاوٹوں کو توڑنے کے بجائے رکاوٹوں سے ہٹ کر اپنا عمل جاری رکھو۔ اس طریقِ عمل کو ایک لفظ میں پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم (positive status-quoism) کہا جاسکتا ہے۔ پیغمبر اسلام کی سیرت کامطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ اسی پالیسی کو اختیار کیا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ آپ ایک ایسا انقلاب لانے میں کامیاب ہوئے جس میں اتنی کم جانیں ہلاک ہوئیں کہ اُس کو بلاشبہ ایک غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) کہا جاسکتا ہے۔
پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم کی یہ پالیسی موجودہ دنیا میں امن کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جنگ کا سب سے بڑا سبب اسٹیٹس کو (status quo) کو توڑنے کی کوشش ہے، اور امن کے قیام کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ اسٹیٹس کو کو مان کر بقیہ دائرہ میں اپنی تعمیر کی جائے۔