Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Amne Alam
Amne Alam

خدائی انتباہ، نہ کہ انسانی ظلم

Urdu · 5 min

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بعدکے جن حالات سے پیشگی طورپر آگاہ کیا ہے اُن میں سے ایک یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں مسلم امت دوسری قوموں کی زدمیں آجائے گی۔ چنانچہ فرمایا يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا (سنن ابو داؤد، حديث نمبر 4297) یعنی قریب ہے کہ قومیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو پکاریں جس طرح کھانا کھانے والے ایک دوسرے کو دسترخوان پر پکارتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرائن بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ اٹھارویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں پیش آیا۔ ابتداء ً یورپ کی نو آبادیاتی قوموں کے ذریعہ یہ واقعہ ہوا۔ اس کے بعد دوسری قومیں اس میںشریک ہوتی چلی گئیں۔ اس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ایسا کیوں ہوا۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ براہ راست خدا کی سنت کے تحت پیش آیا۔ خدا کی سنت یہ ہے کہ قوموں کو جگانے کے لیے اُن پر تنبیہات نازل کی جاتی ہیں۔ یہ گویا شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ہوتا ہے تاکہ وہ چونکیں اوراپنی اصلاح کریں۔ قرآن میں اس قانونِ فطرت کا ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہےفَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ( 6:43) یعنی پس جب ہماری طرف سے اُن پر سختی آئی تو کیوں نہ وہ گڑگڑائے۔بلکہ اُن کے دل سخت ہوگئے۔ اور شیطان اُن کے عمل کو ان کی نظر میں خوش نما کرکے دکھاتا رہا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس آیت میںتزئین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے—ایک بُرے کام کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرنا تا کہ اُس کی بُرائی چھپ جائے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے ساتھ عین یہی واقعہ پیش آیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے شعوری یا غیر شعوری طورپر عین وہی کام کیا جس کو مذکورہ آیت میں تزئین کہا گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ غیر قوموں کی طرف سے جو مسائل پیش آئے وہ خدائی انتباہ (warning) تھے۔ مگر مسلم رہنماؤں نے ان مسائل کو ظلم اور سازش کی اصطلاحوں میںبیان کرنا شروع کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو واقعہ اس لیے تھا کہ مسلمان اپنی کوتاہیوں کو محسوس کریں اور اپنی داخلی اصلاح میں سرگرم ہوجائیں۔ اس کے بجائے مسلم رہنماؤں کی غلط رہنمائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی ساری سوچ غیر اقوام کی طرف متوجہ ہوگئی۔ جس واقعہ سے احتسابِ خویش کا ذہن پیدا ہونا چاہیے تھا، اس سے احتسابِ غیر کا ذہن جاگ اُٹھا، جو بڑھتے بڑھتے تشدد تک جاپہنچا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content