Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Amne Alam
Amne Alam

امن پسندی تحفظ کا ذریعہ

Urdu · 5 min

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایک پیغمبر سے اُس کی قوم نے کہاوَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ (11:91)۔ یعنی،اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم تم کو سنگسار کردیتے۔ یہ رہط پیغمبر کے مومنین کا نہ تھا، بلکہ پیغمبر کی قوم کا تھا جو ایمان نہ لانے کے باوجود قبائلی روایت کی بنا پر، پیغمبر کا تحفظ کرتے تھے۔ یہی حقیقت حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے مَا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيًّا بَعْدَهُ، إِلَّا فِي مَنَعَةٍ مِنْ قَوْمِهِ (مسند احمد، حديث نمبر 10903) یعنی ہر پیغمبر کو خدا نے اپنی قوم کی منعہ (محافظ قوت) کے ساتھ بھیجا ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدیم زمانہ میں جب کہ جدید طرز کا حکومتی نظام موجود نہ تھا۔ لوگ قبائل کی حمایت میں رہا کرتے تھے۔ قبائلی روایات کے مطابق، ہر قبیلہ اس کا ذمہ دار ہوتا تھا کہ وہ دوسروں کے مقابلہ میں اپنے افراد کا تحفظ کرے۔ قدیم زمانہ میں یہی قبائلی روایت پیغمبروں کے لیے محافظ قوت بنی رہی۔ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو ہاشم کے سردار ابو طالب کی طرف سے یہ منعہ حاصل تھا۔ ابو طالب اگر چہ آخر وقت تک ایمان نہیں لائے مگر وہ قبائلی روایات کی بنا پر، پیغمبر اسلام کے مخالفین کے مقابلہ میںآپ کے لیے منعہ(محافظ قوت) بنے رہے۔ (ديكھيے، السيرة النبوية لابن هشام، جلد 1، ص 164)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانہ میں قبائلی نظام ختم ہوچکا ہے۔ مگر جدید تصور ریاست کے تحت سیکولر نظام اہل ایمان اوراہل دعوت کو یہی منعہ فراہم کر رہا ہے۔ موجودہ زمانہ کی سیکولر حکومت اپنے ہر شہری کو یہ گارنٹی دیتی ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے مانے اور جس مذہب کی چاہے تبلیغ کرے، اُس کو کوئی روک نہیں سکتا، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ اہل مذہب یا اہل دعوت کسی کے خلاف تشدد نہ کریں۔

پیغمبروں کو قدیم زمانہ میں جو منعہ(protection) ملا وہ قبائلی منعہ تھا، نہ کہ اسلامی منعہ۔ اس کے باوجود پیغمبروں نے اُس کو قبول کیا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو منعہ ملا وہ بھی سیکولر منعہ ہے، نہ کہ اسلامی منعہ۔ پیغمبروں کی سنت کے مطابق، مسلمانوں کوچاہیے تھا کہ وہ اس منعہ کو قبول کرتے ہوئے اس کے ماتحت پُر امن طورپر دعوت کا کام کریں۔ مگر ساری دنیا کے مسلم رہنماؤں نے سیکولرزم کو لادینیت قرار دے کر اُس کے خلاف لفظی اورعملی لڑائی چھیڑ دی۔ اس طرح وہ غیر ضروری طورپر سیکولرزم کے حریف بن گئے۔ سیکولر نظام کے تحت ملا ہوا قیمتی منعہ استعمال ہونے سے رہ گیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content