Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Amne Alam
Amne Alam

غصہ ایک کمزوری ہے

Urdu · 3 min

قرآن کی سورہ الشوریٰ میں سچے انسانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (42:37) یعنی جب اُنہیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کردیتے ہیں۔

Qur'anQuotes the Qur'an

اس کا مطلب سادہ طورپر صرف غصہ کو معاف کرنا یا اُس کو بھلا دینا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب غصہ کی نفسیات سے اوپر اُٹھ کر معاملہ کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غصہ دلانے کے باوجود آدمی بے غصہ ہو کر سوچے۔ وہ غصہ سے متاثر ہوئے بغیر اس کا جواب دے۔

غصہ ایک کمزوری ہے، اور غصہ نہ کرنا ایک طاقت ہے۔ آدمی اگر غصہ نہ ہو تو وہ ہر صورت حال کو مینیج کرسکتاہے۔ وہ ہر معاملہ کو اپنے موافق بنا سکتا ہے۔ غصہ آدمی کی عقل کو مختل کردیتا ہے۔ ایسا آدمی صورت معاملہ کو نہ تو صحیح طورپر سمجھ سکتا ہے اور نہ صحیح طورپر اُس کا جواب دے سکتا ہے۔ کوئی آدمی غصہ ہوجائے تو فوراً وہ تشدد کی طرف جاتا ہے۔ حالاں کہ تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ اور جو آدمی اپنے غصہ کو قابو میں رکھے، وہ مسئلہ کا پُر امن حل تلاش کرے گا۔ اور پُر امن حل ہی کسی مسئلہ کا واحد یقینی حل ہے۔

انسان کے ذہن میں غیر معمولی صلاحیتیں چھپی ہوئی ہیں۔ آدمی اگر غصہ نہ ہو تو وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنے ذہن کی بھر پور صلاحیتوں کواپنے حق میںاستعمال کرے۔ مگر آدمی جب غصہ ہو جائے تو اُس کے ذہن کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ اپنی ذہنی صلاحیت کو بھر پور طورپر اپنے حق میںاستعمال کرے۔ غصہ نہ ہونا جیت ہے، اورغصہ ہونا اُس کے مقابلہ میں ہار۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content