Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Amne Alam
Amne Alam

صبر کا طریقہ حمایت یافتہ طریقہ

Urdu · 2 min

قرآن کی سورہ الانفال میںکہاگیا ہے کہوَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ( 8:46) یعنی تم لوگ صبر کی روش اختیار کرو، بیشک اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو صبر کی روش اختیار کریں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صابرانہ طریقِ کار کو دوسرے لفظوں میں پُر امن طریقِ کار کہا جاسکتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا طریقِ کار متشدادانہ طریقِ کار ہے۔ مذکورہ آیت فطرت کے اس قانون کو بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا میں جو لوگ پُر امن طریقِ کار اختیار کریں اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ فطرت کے تمام اسباب اُن کی حمایت میں مستعد ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ متشددانہ طریقِ کار اختیار کریں وہ قوانین فطرت کی تائید سے محروم ہوجاتے ہیں، اور جو لوگ قوانین فطرت کی تائید سے محروم ہوجائیں اُن کے لیے خدا کی اس دنیا میں ناکامی اور بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صبر کے طریقہ کا مطلب کیا ہے۔ صبر کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی ناخوش گوار باتوں پر اپنی برداشت نہ کھوئے۔ تاکہ اس کی مثبت سوچ درہم برہم نہ ہونے پائے۔ وہ ممکن اور ناممکن میں فرق کرے اور ممکن کواپنا نقطۂ آغاز بنائے۔ وہ اچانک انجام کا خواہش مند نہ ہو بلکہ تدریج کا انداز اختیار کرے۔ وہ نقصان پر مایوس نہ ہو بلکہ مستقبل کے پیش نظر اپنا عمل جاری رکھے۔ جو کچھ آج ملنے والا ہے اُس کو وہ آج حاصل کرے اور جو کچھ کل ملنے والاہے اُس کے لیے وہ انتظار کی پالیسی اختیار کرے۔ وہ اپنی خواہش کو فطرت کے قانون کے ماتحت رکھے، نہ کہ فطرت کے قانون کو اپنی خواہش کے ماتحت بنانے کی کوشش کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر مکمل طورپر ایک مثبت عمل ہے، صبر کوئی سلبی یا انفعالی روش نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content