Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Amne Alam
Amne Alam

اعراض، نہ کہ ٹکراؤ

Urdu · 3 min

قرآن کی سورہ الاعراف میں حکم دیا گیا ہے کہ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ(7:199) ۔ یعنی تم نادان لوگوں سے اعراض کرو۔

Qur'anQuotes the Qur'an

اعراض کامطلب احتراز (avoidance) ہے، اعراض کااُلٹا ٹکراؤ (confrontation) ہے۔ اعراض کا طریقہ آدمی کو پُرامن دائرہ میں محدود رکھتا ہے اور ٹکراؤ کاطریقہ اُس کو فریق ثانی کے مقابلہ میں متشددانہ کارروائی کی طرف لے جاتا ہے۔

موجودہ دنیا میں کوئی انسان یا گروہ اکیلا نہیں ہے۔ اُس کے سوا دوسرے بہت سے لوگ ہیں جو اپنے اپنے مقاصد رکھتے ہیں۔ ہر ایک کااپنا الگ ایجنڈا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں بار بار ایک دوسرے کا آمنا سامنا ہوتا ہے۔ بار بار ایک فرد اور گروہ اوردوسرے فرد اور گروہ کے درمیان کشمکش کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔

ایسی حالت میں آدمی کے لیے دو راستے ہیں—اعراض یا ٹکراؤ، ان دو کے سوا کوئی تیسرا راستہ نہیں۔ اب آدمی اگر ٹکراؤ کاراستہ اختیارکرے تو دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی ہوگی۔ ساری تاریخ کا تجربہ ہے کہ لڑائی سے صرف دل کی بھڑاس نکلتی ہے۔ حقیقی معنوں میں اُس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ ٹکراؤ سے ہٹ جائے اوراعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ اعراض کا طریقہ نہ صرف مزید نقصان سے بچاتا ہے بلکہ وہ آدمی کو یہ موقع دیتاہے کہ وہ اپنے ترقی کے سفر کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھ سکے۔ اعراض کا عمل بظاہر فریقِ ثانی کے مقابلہ میں ہوتاہے مگر اعراض کا مقصد خود اپنے آپ کو بے فائدہ ٹکراؤ سے بچانا ہے۔ اعراض کا مقصد یہ ہے کہ اپنے سفر کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھا جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content