Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala September 2020
Al-Risala September 2020

ایک مثال

Urdu · 5 min

پانی زمین پر زندگی کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس کو قرآن میں اشاراتی طور پران الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَکًا (50:9) ۔ یعنی ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا۔سائنسی مطالعے کےذریعےاس کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، وہ یہ ہیں۔ تقریباً 13.8 بلین سال پہلے سولر سسٹم وجود میں آیا۔ اس وقت زمین کے اوپر صرف گیس تھی۔ پھر گیس کے ذریعے پانی بنا۔ پانی کا فارمولا H2O ہے، یعنی ابتدائی زمانے میں ایسے مالیکیول بنے، جس میں ہائڈروجن کے دو ایٹم ہوتےتھے، اور آکسیجن کا ایک ایٹم۔ اس طرح زمین کے اوپر پانی وجود میں آیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پھر یہ پانی بڑے پیمانے پر سمندر کی گہرائیوں میں جمع ہوگیا۔ ابتداءمیں نیچر نے اس پانی میں حفاظت ( preservation) کے طور پر نمک (salt) شامل کیا ۔ یہ نمک آمیزپانی براہ راست طور پر انسان کے لیے قابل استعمال نہ تھا۔ پھر زمین کے اوپرسورج کی حرارت اور پانی کے تعامل سے حیرت انگیز طور پر بارش کا انتظام ہوا۔ فطری طور پر نمک کا وزن زیادہ تھا، اور پانی کا وزن کم۔ چنانچہ پانی جب سورج کی حرارت سے بھاپ بنا، تو فطری قانون کے تحت نمک الگ ہوگیا،ا ور پانی الگ۔ پھر یہ ڈیسالینیٹڈ پانی (desalinated water) ہلکا ہونے کی بنا پر فضا میں بلند ہوا، اور پھر آخر کار وہ فطرت کے قانون کے مطابق، پانی بارش بن کر زمین پر برسا۔ اس پانی نے زمین کو سیراب کیا، اور چشموں اور دریاؤں کی صورت میں محفوظ ہوگیا۔

فطرت کے نظام کے تحت یہ ایک سائکل (cycle) ہے، جو مسلسل طور پر جاری ہے۔ پانی کا یہی نظام ہے، جس نے زمین کو انسان کے لیے حیات بخش سیارہ بنا کر رکھا ہے۔ اگر یہ نظام نہ ہو تو انسان زمین کے اوپر زندہ سماج نہ بنا سکے۔ زمین پر تہذیب کی تشکیل پانی کے بغیر ناممکن ہو جائے۔ اس پورے عمل پر غور کیا جائے ،تو اس میں حکمت کے اتنے زیادہ پہلو ہیں، جو انسان کے لیے مائنڈ باگلنگ ظاہرہ (mind-boggling phenomena) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قدیم زمانے کا انسان ان حقیقتوں سے بے خبر تھا، مگر اب سائنسی مطالعے کے ذریعے یہ حقیقتیں انسان کے علم میں آگئی ہیں۔ ان حقیقتوں کو جاننا انسان کے اتھاہ خزانے کی حیثیت رکھتا ہے۔

موافق اسلام انقلاب

یہ سائنسی انقلاب (scientific revolution) پورے معنوں میں ایک موافق اسلام انقلاب تھا۔ اس انقلاب کے ذریعہ اللہ کی وہ رحمتیں انسان پر کھلیں، جن کو قرآن میں آیات اللہ، کلمات اللہ، آلاءاللہ جیسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہی وہ موافق اسلام انقلاب ہے، جس کو مختلف حدیثوں میں تائید دین بذریعہ غیر مسلم اقوام کہا گیا ہے۔ مسند احمد میں یہ بات ان الفاظ آئی ہے:إِنَّ اللہَ سَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِأَقْوَامٍ لَا خَلَاقَ لَہُمْ ( مسند احمد، حدیث نمبر 20454)۔ یعنی یقینا اللہ اس دین کی مدد اس قوم کے ذریعے کرے گا، جن کا اس (دین) میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تہذیب جدید (modern civilization)کا یہ انقلاب مختلف پہلوؤں سے بلاشبہ ایک موافقِ اسلام انقلاب (pro-Islamic revolution) تھا۔ لیکن مسلم رہنما اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے۔وہ مغربی تہذیب، اور مغربی کلچر ، اسی طرح مغربی کلونیلزم (colonialism)کے درمیان فرق نہ کرسکے، اور مغربی تہذیب کی اصل حیثیت کو دریافت نہ کرسکے۔ اس لیے موجودہ دور کے مسلم رہنما غیر ضروری طور پر ویسٹو فوبیا (Westophobia) کا شکار ہوگئے۔ وہ مغرب کے خلاف نفرت اور تشدد میں مبتلا ہوگئے۔ جو چیز حدیث کے الفاظ میں تائید دین کی حیثیت رکھتی تھی، اس کو انھوں نے برعکس طور پر دشمنی اور سازش وغیرہ سمجھ لیا۔ بد قسمتی سے ویسٹوفوبیا کی یہ حالت مسلم دنیا میں ابھی تک جاری ہے۔ مگر یہ سوچ قرآن و حدیث کے خلاف ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content