Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala September 2020
Al-Risala September 2020

تعلیم، قدیم اور جدید

Urdu · 2 min read

جدید دَور میں سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں تمام علوم کو از سرِ نو مدوَّن کیاگیا ہے۔اسی طرح ٹکنالوجی کی ترقی نے قدیم روایتی دَور کو بالکل بدل دیا ہے۔ چنانچہ قدیم زمانے میں تعلیم کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ زندگی کی قائم شدہ ر وایات کو باقی رکھنے کے لیے تربیت یافتہ افراد مہیا کرنا۔ مثلاً مذہب کے رسوم کو درست طور پر ادا کرنے کے لیے تربیت یافتہ افراد کو مہیا کرنا ہے۔ موجودہ زمانے میں تعلیم کا مقصد یہ ہوگیا ہے کہ ریسرچ و تحقیق کے ذریعے زندگی کے نئے راستے تلاش کرنا، اور تہذیب کی ترقی کے سفر کو مسلسل طور پر آگے بڑھا نا ہے۔

موجودہ زمانے میں تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ اپنے آپ کو وقت کے تقاضے کے مطابق تیار کیا جائے۔ تاکہ انسان ترقی کی دوڑ میں اپنا سفر جاری رکھ سکے۔ قدیم زمانے میں تعلیم عملاً ایک جامد ڈسپلن کی حیثیت رکھتی تھی۔ موجودہ زمانے میں تعلیم ایک تخلیقی سرگرمی (creative activity) کا نام ہے۔ قدیم زمانے میں تعلیم کا تعلق کچھ محدود لوگوں سے ہوتا تھا۔ موجودہ زمانے میں تعلیم کا تعلق زندگی کے تمام شعبوں سے ہوگیا ہے۔ قدیم زمانے میں تعلیم کا نشانہ یہ نہیں ہوتا تھا کہ نئی نئی چیزوں کو دریافت کیا جائے،تاکہ تہذیب کے ارتقا میں ان کا استعمال ہو۔ موجودہ زمانے میں تعلیم ایک انقلابی عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس کو ایک مثال کے ذریعے اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ قدیم زمانے میں تعلیم گویا ایک بنی بنائی عمارت کا نام ہوتا تھا، جس کی وقت وقت پر صفائی کردی جائے اور وائٹ واش کردیا جائے۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانے میں تعلیم یہ ہے کہ نئی نئی دریافتوں کے مطابق نئی نئی عمارت کھڑی کی جائے۔ قدیم زمانے میں تعلیم کا مقصد زندگی کے روایتی ڈھانچہ کو برقرار رکھنے کا نام ہوتا تھا۔ قدیم زمانے میں تعلیم کا اصل مقصد یہ تھا کہ سماج کے اقدار (values)، آداب، تہذیب، وغیرہ کو اگلی نسل میں منتقل کرنا، تاکہ سماجی روایت جاری رہے۔موجودہ زمانے میں تعلیم ایک ترقی پذیر عمل کا نام ہے، جو بہتے ہوئے دریا کی مانند آگے بڑھتا ہے، اور ترقی کے سفر میں بنیادی رول ادا کرتا ہے۔

قدیم دور میں اپنی روایت سے نکل کر سوچنا نادرست سمجھا جاتا تھا، خواہ وہ توہمات پر مبنی کیوں نہ ہو۔ جو ایسا کرتا اس کا بائیکاٹ کیا جاتا تھا۔اس پر ظلم کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس،جدید دور میں روایت شکنی سب سے بڑی خوبی کی بات ہے۔ یہ انسان کو موقع دیتی ہے کہ انسان ڈی کنڈیشنڈ  مائنڈ کے ساتھ سوچے، اور میرٹ (merit)کی بنیاد پر کسی چیز کو رد ّیا قبول کرے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.