Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Al-Risala September 2019
Al-Risala September 2019

جہاد فی اللہ

Urdu · 12 min

جہاد کی ایک قسم وہ ہے جس کو قرآن میں جہاد فی اللہ (الحج، 22:78) کہاگیا ہے۔ یعنی اللہ میں جہاد۔ اللہ میں جہاد کیا ہے۔ اللہ میں جہاد ہے آیات اللہ(signs of God) میں غور وفکر کرنا۔تخلیق میں چھپی ہوئی حکمت (wisdom) کو دریافت کرنا۔جہاد فی اللہ کی ایک مثال قرآن میں وہ ہے، جو پیغمبر ابراہیم کے حوالے سے ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے مَلَکُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (الانعام، 6:75)۔ یعنی آسمان اور زمین کے عجائبات (wonders) ۔ قرآن میں دوسرے مقام پر یہ حقیقت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے أَوَلَمْ یَنْظُرُوا فِی مَلَکُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّہُ مِنْ شَیْءٍ(7:185)۔ یعنی کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کے نظام پرغور نہیں کیا، اور ان چیزوں پر جواللہ نے پیدا کی ہیں۔ اللہ کے پاس عطیات کا خزانہ اتنا بڑا ہے کہ اگر وہ ہر ایک کو اس کی طلب کے مطابق دے دے تب بھی اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس حقیقت کو ایک حدیث رسول میں اس طرح بیان کیا گیا ہے  یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوا فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِی فَأَعْطَیْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَہُ، مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِی إِلَّا کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْر(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2577)۔ اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے پچھلے، جن و انس ایک کھلے میدان میں جمع ہوجائیں، اور مجھ سے سوال کریں پھر میں ہر انسان کو اس کے سوال کے مطابق عطا کروں تو اس سے میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی نہیں ہوگی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے ہوتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

غالباً اسی حقیقت کا ادراک (realization) پیغمبر سلیمان کی زبان سے دعا کی صورت میں ہوا تھا، جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے رَبِّ اغْفِرْ لِی وَہَبْ لِی مُلْکًا لَا یَنْبَغِی لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِی إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ(38:35) ۔یعنی اے میرے رب، مجھ کو معاف کردے اور مجھ کو ایسی سلطنت دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو، بیشک تو بڑا دینے والا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سلیمان بن داؤد کو ان کی دعا کے مطابق انوکھےقسم کا سیاسی اقتدار عطا کیاگیا، جو ان کے سوا کسی اور انسان کو کبھی نہیں ملا۔ لیکن خدا کے خزانے میں عطیے کی یہی ایک انوکھی صورت نہیں ہےجو حضرت سلیمان کو عطا ہوئی۔اس کے سوا دوسری ہزاروں صورتیں ہیں، جو تاریخ میں دوسرے انسانوں کو عطا ہوئیں۔ اسی طرح عطیات کے دوسرے بہت سےمیدان ہیں جو دوسرے انسانوں کو عطا ہوئے۔ عطیات کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ آج بھی کسی انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ایک منفرد عطیۂ الٰہی کا طالب بنے، اور اللہ اس کے استحقاق کو دیکھ کر یہ منفرد عطیہ اس کو دے دے۔

عطیۂ الٰہی کیایک مثال حکمت خداوندی ہے۔ اس کائنات میں حکمت خداوندی (divine wisdom)کے بے شمار آئٹم ہیں۔ اگر کوئی انسان سچے دل سے اس کا طالب بنے کہ اس کو حکمت خداوندی کا ایک ایسا آئٹم دے دیا جائے، جو کسی اور کو نہ ملا ہو تو یقیناً اللہ اس پر قادرہے۔ اس نے جس طرح حکم کی ایک صورت سلیمان بن داؤد کو دی، جو نہ ان سے پہلے کسی کو ملی، نہ ان کے بعد۔ اسی طرح اللہ اس پر قادر ہے کہ وہ کسی طالب کو حکمت خداوندی کا ایک ایسا آئٹم دے دے، جو نہ اس سے پہلے کسی کو ملا ہو، نہ اس کے بعد کسی کو ملے۔ اور اس عطیہ کے باوجوداللہ کے خزانۂ حکمت میں کوئی کمی واقع نہ ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلامی جہاد کا سب سے بڑا میدان تدبر ہے یعنی فکری جہاد (intellectual jihad) ۔ فکری جہاد سے بڑا کوئی جہاد نہیں۔ اسی حقیقت کو ابن عباس اور ابو الدرداءنے ان الفاظ میں بیان کیاہے تَفَکُّرُ سَاعَةٍ خَیْرٌ مِنْ قِیَامِ لَیْلَةٍ (العظمۃ لابی الشیخ الاصبہانی، اثر نمبر 42؛ حلیۃ الاولیاء، جلد 1، صفحہ208)۔ یعنی ایک ساعت کے لیے تفکر کرنا رات میں قیام (اللیل) سے بہتر ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فکری جہاد سب سے بڑاجہاد اس لیے ہے کہ وہ معرفت اور دعوت سے جڑاہوا ہے۔ فکری جہادکی ایک مثال صحابیٔ رسول ابوذر کی ہے۔ ان کے متعلق روایت میں آیا ہے کہ وہ رات دن سوچتے رہتے تھے(حلیۃ الاولیاء، جلد 1،صفحہ164)۔ یہ فکری جہاد بلا شبہ سب سے بڑا جہاد ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ فکری جہاد کا رشتہ معرفت اوردعوت الی اللہ سے جڑا ہوا ہے۔ فکری جہاد کے ذریعے جب کسی شخص کا ذہنی ارتقا (intellectual development) ہوتا ہے تو وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ آیات اللہ (signs of God) اور آلاء اللہ (Marvels of Nature) کو زیادہ سے زیادہ دریافت کریں اور اس طرح خالق کے بارے میں اپنی معرفت کو بے پناہ حد تک بڑھاتا چلا جائے۔ اسی طرح جو شخص فکری جہاد کرے، وہ اپنے داعیانہ صلاحیت میں بہت اضافہ کرے گا۔ اس کافکری مستوی (intellectual level) بہت بڑھ جائے گا۔ وہ اس قابل ہوجائے گا کہ دعوت الی اللہ کا کام اعلیٰ ترین سطح پر انجام دے سکے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فکری جہاد کا فائدہ دنیا سے آخرت تک چلا گیا ہے۔ اس کی ایک مثال قرآن کی پہلی آیت ہے الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ یہ پہلی آیت مومن کے اس درجۂ معرفت کو بتاتی ہے، جو ایک مومن فکری جہاد کے ذریعے دنیا کی زندگی میں حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ جنت جب جنت میں داخل ہوجائیں گے تو جنت میں ان کے آخر قول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیاہےوَآخِرُ دَعْوَاہُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (10:10)۔یعنی اور ان کی آخری بات یہ ہوگی کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو رب ہے سارے جہان کا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن موجودہ دنیا میں فکری جہاد اس لیے کرتا ہے کہ وہ اعلیٰ ترین سطح پر ذہنی ارتقا کا درجہ حاصل کرے۔ قرآن میں جنت کو دارالمتقین (النحل، 16:30) کہاگیا ہے۔ انسانی زبان میں اس کو اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ جنت ایسے انسانوں کا مقام ہے، جو مجلسِ خداوندی میں کلام کرنے کے قابل ہوسکیں۔ دنیا میں فکری جہاد کا اصل مقصد یہی ہے کہ جب آخرت کی دنیا میں پہنچے تو وہاں وہ خداوندی سطح پر کلام کرنے کے قابل ہوچکا ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلام میں جہاد کا مطلب قتال(جنگ) نہیں ہے، بلکہ پرامن جدوجہد ہے۔ اس جدوجہد کا نشانہ کسی دوسرے کی گردن کاٹنا نہیں ہوتا بلکہ خود اپنے آپ کو اللہ کے راستے میں مشقت کے مراحل سے گزارتے ہوئے ثابت قدم رہنا۔ مشقت کے یہ مراحل آدمی کے اندر ایک نفسیاتی ہیجان پیدا کرتے ہیں۔ آدمی دردوکرب کے لمحات سے گزرتے ہوئے اللہ کو پکارتاہے۔

یہ پکار(دعا) سادہ طور پر کچھ الفاظ کو زبان سے دہرا لینا نہیں ہے، بلکہ فکر کے مراحل ہیں، یعنی جب آدمی اس قسم کے لمحات سے گزرتا ہے تو اس کی سوچ میں گہرائی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کی تخلیقیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر گہری فکر (deep thinking) آجاتی ہے۔ وہ وزڈم کی اس اعلیٰ سطح پر آجاتا ہے جہاں اللہ سے اس کا گہراتعلق قائم ہوجاتا ہے۔ وہ اللہ کا ہوجاتا ہے، اور اللہ اس کا۔

جنت کی سرگرمیاں

جنت کے بارے میں قرآن میں مختلف بیانات آئے ہیں۔ ایک بیان یہ ہے إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ کَانَتْ لَہُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا ۔ خَالِدِینَ فِیہَا لَا یَبْغُونَ عَنْہَا حِوَلًا۔ قُلْ لَوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِکَلِمَاتِ رَبِّی لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ کَلِمَاتُ رَبِّی وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہِ مَدَدًا (18:107-109)۔ یعنی بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، ان کے لیے فردوس کے باغوں کی مہمانی ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہ وہاں سے کبھی نکلنا نہ چاہیں گے۔ کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی نشانیوں کو لکھنے کے لیے روشنائی ہوجائے تو سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملا دیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہاں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت کی زندگی اتنی خوشگوار ہوگی کہ وہ کبھی اس سے نکلنا نہ چاہیں گے۔ اس کے بعد اگلی آیت یہ ہے کہ اللہ کے کلمات اتنے زیادہ ہیں کہ کتنا ہی زیادہ ان کو لکھا جائے، وہ کبھی ختم نہ ہوں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں اہلِ جنت کا ایک مشغلہ یہ ہوگا کہ وہ کلمات اللہ کا مطالعہ کریں، وہ کلمات اللہ کو دریافت کریں، اور پھر کلمات اللہ کو قلم بند کریں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنت میں اہلِ جنت کی مشغولیت اسی قسم کی ہوگی، جو موجودہ دنیا میں سائنسدانوں کی ہوتی ہے۔ مشہور برطانی سائنسداںنیوٹن (1643-1727) سے اس کےعلم کے بارے میں پوچھا گیا۔ اس نے کہا کہ جو ہم جانتے ہیں، وہ ایک قطرہ ہے، اور جو کچھ ہم نہیں جانتے ہیں، وہ ایک سمندر ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

What we know is a drop, what we don't know is an ocean.

یہی تجربہ اہلِ جنت کے ساتھ جنت میں بہت زیادہ اضافہ کے ساتھ ہوگا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content