Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala September 2018
Al-Risala September 2018

دین کا نقطۂ آغاز

Urdu · 3 min read

قرآن کی پہلی آیت یہ ہے:الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (1:2)۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ دین کا نقطۂ آغاز اللہ رب العالمین کی دریافت پرمبنی ہے۔ یعنی اہلِ دین کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل کریں۔ اس کے بعد وہ دینی زندگی کی تعمیر کریں۔ اس ترتیب کو اختیار کرنے سے انسان کے اندر حقیقی معنی میں دینی شخصیت بنے گی۔ اس کے برعکس، کوئی دوسری ترتیب اختیار کی جائے تو دینی شخصیت کی تعمیر و تشکیل نہ ہوسکے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان کی حکومت کا جب آپ تصور کرتے ہیں، تو آپ کے ذہن میں یہ نقشہ آتا ہے کہ ایک بااقتدار صدر یا وزیر اعظم ملک کی زمامِ کار اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے، اور پورے ملک کو اپنے نقشے کے مطابق کنٹرول کررہا ہے۔

یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر اور کامل صورت میں اللہ رب العالمین کا ہے۔ اللہ اس دنیا کا حاکم اعلیٰ ہے۔ وہ پوری دنیا، خواہ وہ مادی دنیا ہو یا انسانی دنیا، اس کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ لیکن دونوں میں ایک فرق ہے۔ جہاں تک مادی کائنات کا معاملہ ہے، اللہ رب العالمین اس دنیا کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا کے معاملے میں جزوی طور پر انسان کو آزادی دے دی گئی ہے۔ انسان سے یہ مطلو ب ہے کہ وہ خود انضباطی (self-imposed discipline) کے تحت اللہ رب العالمین کے آگے جھک جائے۔ انسان کو حکومت الٰہیہ قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ اپنے آپ کو حکومت الٰہیہ کا پابند بنانا ہے۔

دین کا یہی آغاز امتِ مسلمہ سے مطلوب ہے۔ بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مدرسوں میں دین کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاںدرست ترتیب کے ساتھ کام نہیں ہو رہا ہے۔ یعنی مدارس کا طریقہ ہے مسائل کی پابندی سکھانا، جب کہ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا نقطۂ آغاز معرفتِ رب ہے، یعنی اللہ رب العالمین کی دریافت، اور انسانی شخصیت کی تعمیر۔

زندگی کا مقصد

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے پیدا کرنے والے نے اس کو کَبَد (البلد،90:4) میں پیدا کیا ہے، انسان کے لیے یہ مقدر ہے کہ اس کو مختلف قسم کی مصیبتیں (البقرۃ،2:155) آئیں، اسی طرح بتایا گیا ہے کہ انسا ن کو خُسران میں پیدا کیا گیا ہے(العصر، 103:2)، زندگی کا سفر انسان کے لیے مشقت کا سفر (الانشقاق،84:6) ہے، انسان کو پیدا کرنے کے بعد خالق نے اس کو اسفل سافلین میں ڈال دیا (التین،95:5)، وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک طرف قرآن میں اس قسم کے بیانات ہیں۔ دوسری طرف قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان ایک مکرم مخلوق (الاسراء،17:70) ہے، انسان کو احسن تقویم (التین،95:4) کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، وغیرہ۔ ان دونوں قسم کی آیتوں میں تطبیق کیا ہے۔ اس کا جواب جنت کے تصور میں ملتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْیُنٍ جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ (32:17)۔ اسی طرح ہے:وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَشْتَہِی أَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَدَّعُونَ (41:31)، اور فرمایا:وَفِیہَا مَا تَشْتَہِیہِ الْأَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْیُنُ وَأَنْتُمْ فِیہَا خَالِدُونَ (43:71)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کی مصیبتیں انسان کی تربیت کے لیے ہیں ، نہ کہ تکلیف کے لیے ۔ خالق نے ایک معیاری دنیا بنائی ہے، جنت۔ یہی جنت کی دنیا انسان کا اصل مسکن (habitat) ہے۔ موجودہ دنیا اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ انسان اپنے آپ کو احسن العمل (best in conduct)ثابت کرے(الملک،67:2)۔ موجودہ دنیا کی مصیبتوں کا جواب یہ ہے کہ یہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعہ انسان کو تربیت یافتہ انسان بنایا جائے، ان کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ جنت میں داخلے کے مستحق ٹھہریں۔ ہر بڑی کامیابی سے پہلے مشقت کا ایک دور آتا ہے۔ یہ مشقت کا دور انسان کی تیاری اور تربیت کے لیےہوتا ہے۔ اگر یہ دور نہ آئے تو انسان کامیابی کو سنبھالنے کے قابل نہیں بنے گا۔ یعنی پہلے تربیتی دور سے گزر کر اپنے آپ کو اہل ثابت کرنا، اور اس کے بعد ابدی جنت میں داخلہ پانا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content