Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala September 2017
Al-Risala September 2017

قتل گاہ یا صحت گاہ

Urdu · 2 min read

بیسویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں جدید طرز کی تعلیم کے ادارے قائم ہوئے۔ یہ برٹش رول کا زمانہ تھا۔ تاہم سیاسی وجوہات کی بنا پر مسلمانوں کا مذہبی طبقہ عمومی طور پر انگریزی تعلیم کا مخالف بن گیا۔ ایک عالم نے یونیورسٹی کے بارے میں لکھا کہ وہ مسلمانوں کے لیے قتل گاہ ہے۔ ایک اور عالم نے جدید طرز کی تعلیم گاہوں پر ایک کتاب لکھی، جس کا ٹائٹل تھا: ردۃ و لا ابابکر لہا (ایک ارتداد ہے، لیکن اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی ابوبکر نہیں) ۔ ایک مشہور شاعر نے انگریزی تعلیم گاہوں کے بارے میں یہ شعر لکھا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یوں قتل پہ بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

اس قسم کی منفی بات صرف زمانے سے بے خبری کا نتیجہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انگریزی تعلیم گاہیں ہمارے نوجوانوں کے اندر سے توہم پرستی کا ذہن ختم کررہی تھیں، اور ان کو سادہ ذہن (clean slate)بنارہی تھیں۔ مگر ہمارے رہنماؤں نے اس راز کو نہیں سمجھا، اور غیر ضروری طور پر بےجا مخالفت شروع کردی۔

اس وقت کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ عصری اسلوب (modern idiom) میں اسلام پر کتابیں تیار کی جائیں، اور ان کتابوں کو مسلم نوجوانوں میں بڑے پیمانے پر پھیلایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید تعلیم ایک موقع (opportunity) کی حیثیت رکھتی تھی، مگر ہمارے رہنما اس کو موقع کی حیثیت سے دیکھنے میں ناکام رہے۔ اس بنا پر وہ ان کو استعمال کرنے سے بھی محروم رہے۔

اس معاملے کا شدید تر نقصان یہ ہوا کہ ان علماء کو ماننے والوں کی بعد کی نسلیں ڈبل اسٹینڈرڈ بن گئیں۔ چناں چہ آج یہ حال ہے کہ یہ مسلمان اپنے علماء اور رہنماؤں کے مفروضہ کارناموں پر لفظی قصیدے پڑھتے ہیں، لیکن عملاً اپنے بچوں کو انھیں تعلیم گاہوں میں تعلیم دلاکر فخر محسوس کرتے ہیں۔ منافقت کلچر کا اتنا بڑا واقعہ شاید پوری مسلم تاریخ میں کبھی پیش نہیں آٰیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content