Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala September 2017
Al-Risala September 2017

قبولیت میں تاخیر

Urdu · 2 min read

دعا کی قبولیت میں اگر تاخیر ہو تو انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ اس میں بڑی حکمت پوشیدہ ہوسکتی ہے۔ اس معاملے میں ایک حدیث قدسی ہے، جو ان الفاظ میں آئی ہے:انَّ العبد إذا دعا ربَّہ، وہو یحبہ قال:یا جبریل:لا تعجَل بقضاء حاجة عبدی، فإنی أحبُّ أن أسمع صوتہ(مسند الحارث)۔یعنی بندہ جب اپنے رب کو پکارے، اور وہ اس کو محبوب ہو، تو اللہ جبریل سے کہتا ہے، اے جبریل ،میرے بندے کی حاجت پورا کرنے میں جلدی نہ کر، کیوں کہ مجھے پسند ہے کہ میں اس کی آواز سنوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سے مراد سادہ طور پر آواز سننا نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس وقت بندے میں جو روحانی عمل جاری ہوتا ہے، اللہ چاہتا ہے کہ وہ عمل بندے کے اندر دیر تک جاری رہے۔ اصل یہ ہے کہ تخلیق کے نقشہ (creation plan) کے مطابق، انسان کے اندر ذہنی اور روحانی ارتقا کا عمل معمول کے حالات میں جاری نہیں ہوتا۔ یہ عمل صرف اس وقت جاری ہوتا ہے جب کہ کوئی ایسا واقعہ پیش آئے، جوانسان کے اندرذہنی طوفان (brainstorming) کی حالت پیدا کردے۔جب ایسا ہوتا ہے تو انسانی ذہن کے تمام بند دروازے کھل جاتے ہیں۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ اس کو ایسے تجربات پیش آئیں جو عام حالات میں پیش نہیں آتے۔

یہی وہ وقت ہوتا ہے جب کہ اس کے ذہن کا جمود (stagnation) ٹوٹے، اور اس کے اندر تخلیقیت (creativity) کا عمل بیدار ہوجائے۔ وہ منفی سوچ سے باہر آئے، اور چیزوں کو مثبت نظر سے دیکھنے لگے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے، جب کہ اس کے اندر چھپے ہوئے امکانات (potentials) ظاہر ہوجائیں۔ اس کے اندر وہ سوچ پیدا ہوجائےجس کو بلند سوچ (high thinking) کہا جاتا ہے۔ اب تک اگر وہ مین ( man)تھا تو اب وہ سوپر مین (superman) بن جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content