Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala September 2017
Al-Risala September 2017

موت کا ظاہرہ

Urdu · 2 min read

موت کا ظاہرہ (phenomenon) ایک انتہائی انوکھا ظاہرہ ہے۔ ہر انسان جو اس زمین پر پیدا ہوتا ہے، وہ ضرور ایک دن مر جاتا ہے۔ خواہ بظاہر وہ کتنا ہی تندرست ہو، اس کے پاس کتنے ہی زیادہ اسباب کی کثرت ہو۔ تاریخ میں ایسے انسان پیدا ہوئے، جو اپنے آپ کو موت سے بچانا چاہتے تھے۔ لیکن ان کی کوشش مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔ ساری کوشش کے باوجود وہ ایک دن اسی طرح مرگیے، جس طرح اس دنیا میں دوسرے انسان مررہے ہیں۔

یہ واقعہ قرآن کی صداقت کا ایک قطعی ثبوت ہے۔قرآن میں موت کے بارے میں تین بار یہ الفاظ آئے ہیں:کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185, 21:35, 29:57)۔ یعنی ہر انسان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔اس آیت میں قرآن نے یہ اعلان کیا کہ اس زمین پر پیدا ہونے والے ہر مرد اور ہر عورت کو ضرور ایک دن مرنا ہے۔ اس میں کسی بھی فرد کا کوئی استثنا (exception) نہیں ۔ خواہ وہ بادشاہ ہو یا دولت مند یا کوئی بہت بڑا ڈاکٹر۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ پوری انسانی تاریخ کے بارے میں ایک عمومی ریمارک ہے۔ وہ پوری تاریخ انسانی کا احاطہ کیےہوئے ہے۔ تاریخ کے بارے میں قرآن کا یہ ریمارک پوری تاریخ کا ایک عمومی واقعہ بن گیا۔ موت کے بارے میں اس قسم کا بیان کسی بھی کتاب میں موجود نہیں، نہ مذہبی کتاب میں اور نہ غیرمذہبی کتاب میں۔ جو بھی مرد یا عورت اس زمین پر پیدا ہوئے، وہ مقرر مدت کے اندر مر کر اس دنیا سے چلے گیے۔

ایسا ایک عمومی بیان جو عملاً پوری تاریخ کا ایک ثابت شدہ واقعہ بن جائے، یہ اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ اس قول کا قائل اللہ رب العالمین ہے، وہ ہستی جس کے ہاتھ میں انسان کی موت بھی ہے اور زندگی بھی۔ اسی کے ساتھ یہ بات بھی اپنے آپ ثابت ہوتی ہے کہ قرآن اللہ رب العالمین کی کتاب ہے۔ یہ واقعہ خدا کے وجود کا ثبوت بھی ہے، اور قرآن کی صداقت کا ثبوت بھی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content