ایک حدیث ہے: اللہم إنی أسألک علما نافعا ورزقا طیبا وعملا متقبلا(مسند احمد، حدیث نمبر 26602) میرا سوال یہ ہے کہ علم نافع اور غیر نافع کا معیار کیا ہے؟ (حافظ سید اقبال احمد عمری)
نافع ہونے کا دو معیار ہے۔ دنیا کے اعتبار سے نافع ہونا، اور آخرت کے اعتبار سے نافع ہونا۔ مگر زیادہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد معروف معنوں میں علم دنیااور علم دین نہیں ہے۔ بلکہ اس کا خطاب خود صاحب علم سے ہے۔ کسی علم کا نافع یا غیر نافع ہونا ، اس پر منحصر ہےکہ صاحب علم اس کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ گویا نافعیت کا معیار علم کا استعمال ہے، نہ کہ خود علم۔
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا علم بھی غیر نافع بن جاتا ہے کہ اگر اس کو دنیوی مفاد کے لیے استعمال کیا جائے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں: من تعلم علما مما یبتغى بہ وجہ اللہ عز وجل لا یتعلمہ إلا لیصیب بہ عرضا من الدنیا، لم یجد عرف الجنة یوم القیامة یعنی ریحہا (سنن ابوداوود، حدیث نمبر3664) یعنی جس نے ایسا علم سیکھاجس سے اللہ کی رضا حاصل کی جاتی ہے، مگر اس نے یہ علم صرف دنیا حاصل کرنے کے لیے سیکھا تو قیامت کے دن وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا۔ اصل یہ ہے کہ ہر علم ایک کار آمد علم ہے۔ اس کا استعمال اس کو اچھا یا برا بناتا ہے۔اس لحاظ سے اصل اہمیت استعمال کی ہے ، نہ کہ علم کے قسم کی۔اسی حقیقت کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: انما الاعمال بالنیات (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1)یعنی عمل کا دار ومدار نیت پر ہے۔ آخرت کی نیت سے حاصل کیا ہوا علم نافع ہے، اور دنیاکی نیت سے حاصل کیا ہوا علم غیرنافع ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔