حضرت یوسف ایک اسرائیلی پیغمبر تھے۔ان کو مصر کے بادشاہ نے یہ موقع دیا کہ وہ پورے ملک کے خزائن ارض (یوسف: 55) کو استعمال کریں۔ بادشاہ کی شرط صرف ایک تھی۔ وہ یہ کہ سلطنت کا تخت بدستور اس کے پاس رہے گا۔
Only with regard to the throne, will I be greater than you. (Genesis 41:40)
حضرت یوسف نے بادشاہ کی اس شرط کو مان لیا، اور وہ اپنی آخر عمر تک ملک مصر کے مواقع کو آزادانہ طور پر استعمال کرتے رہے۔ موجودہ زمانے میں بھی یہ موقع مزید اضافے کے ساتھ حاصل ہے۔ موجودہ زمانے میں چالیس سے زیادہ مسلم ممالک ہیں۔ ہر ملک کے مسلم حکمراں زبانِ حال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ میرے خلاف اینٹی گورنمنٹ تحریک نہ چلاؤ اور پھر ملک کے تمام مواقع تمہارے لئے آزادانہ طور پر کھلے رہیں گے۔تم تمام غیر سیاسی میدانوں میں عمل کرنے کے لیے آزاد ہو۔
مگر موجودہ زمانے میں یہ امکان غیر استعمال شدہ رہ گیا۔ کسی مسلم ملک میں بھی اس موقع کو استعمال نہ کیا جاسکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنما حضرت یوسف کی اس پیغمبرانہ سنت پر عمل نہ کر سکے۔اس کے برعکس ان مسلم رہنماؤں نے ہر مسلم ملک میں یہ کیا کہ وہ حکومت کے حریف بن گیے۔ انھوں نے اینٹی گورنمنٹ سرگرمیاں شروع کردیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ملک کے حکمراںاپنے دفاع کے طور پر مسلم رہنماؤں کے خلاف ہوگیے۔ ہر مسلم ملک میں مسلم تحریکوں کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔ مسلم ملکوں میں دعوت اور تعلیم جیسے میدانوں میں کام کے غیر معمولی مواقع تھے۔ مگر یہ مواقع غیر استعمال شدہ رہ گیے۔مسلم رہنماؤں پر لازم تھا کہ وہ اپنا محاسبہ کرتے، وہ اپنی غلطی کو دریافت کرتے۔ لیکن انھوں نے برعکس طور پر یہ اعلان کیا کہ یہ مسلم حکمراں اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ اب ہر مسلم ملک میں مسلمانوں کے دو گروہ بن گیے۔ حکومتی گروہ اور غیر حکومتی گروہ۔دونوں گروہوں کے درمیان نفرت اور تشدد کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔