رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے بطور پیشین گوئی یہ فرمایا تھا کہ بعد کے زمانے میں امت میں فتنہ (اختلاف و جنگ)کا دور آئے گا۔ اس وقت مخلص اہل ایمان کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کے بارے میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: یوشک أن یکون خیر مال المسلم غنم یتبع بہا شعف الجبال ومواقع القطر، یفر بدینہ من الفتن (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7088)۔ یعنی قریب ہے کہ وہ وقت آئے جب کہ مومن کا سب سے اچھا مال بکریاں ہوں جن کو لے کروہ پہاڑوںکے اوپر چلاجائے، اور گوشہ کے مقامات میں چلاجائے۔ اور وہاں اپنے کو فتنے سے بچالے۔
اس حدیث میں غنم کا لفظ علامتی طور پر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب امت میں اختلاف بڑھ جائے، اور لوگوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہوجائے تو سچے صاحب ایمان کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے لیے کوئی ایسا گوشہ حیات تلاش کرلے، جہاں وہ اختلاف و ٹکراؤ سے دور رہ کر زندگی گزارے اور اسی حال میں مرجائے۔
اختلاف اگر مثبت اختلاف کے معنی میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن جب اختلاف کی صورت یہ ہو کہ لوگ ایک دوسرے کی نیت پر حملہ کرنے لگیں، اس کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہوجائے، حتی کہ جنگ و قتال کی نوبت آجائے توبلاشبہ وہ برا ہے۔ اس وقت کسی شخص کے لیے نجات کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو باہمی ٹکراؤ سے الگ تھلگ کرلے، وہ ذاتی اصلاح کے دائرے میں اپنے کو سمیٹ لے۔
حدیث میں آیاہے: اختلاف امتی رحمۃ (المقاصد الحسنۃ : 39)۔ اس اختلاف سے وہ اختلاف مراد ہے،جو خیر خواہانہ جذبے کے ساتھ تبادلۂ خیال (discussion) کے ہم معنی ہو۔ لیکن وہ اختلاف جو مبنی بر عناد ہو ،جس کا مقصد دوسرے کو نیچا دکھانا ہو، جس میں الزام تراشی کی زبان استعمال کی جائے، ایسا اختلاف بلاشبہ گناہ ہے اور وہ قابل ترک ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔