ربیعہ بن عباد الدیلی روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ کو ذوالمجاز کے سوق میں دیکھا۔ آپ لوگوں کے پاس جاتے اوران سے کہتے: یا أیہا الناس قولوا: لا إلہ إلا اللہ، تفلحوا (مسند احمد: 16023)۔ اس روایت کو لے کر بعض لوگ کہتے ہیں کہ دعوت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگوں سے مل کر ان کو کلمہ پڑھنے کے لیے کہا جائے۔اس کے علاوہ دعوت کا کوئی اور اسلوب درست نہیں ہو سکتا۔
اگر دعوت کا یہی واحد اسلوب تھا تو قرآن میں یقینا اس کو بتایا گیا ہوتا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن میں ایسی کوئی ہدایت موجود نہیں۔ البتہ قرآن کے مطالعے سے اس سلسلے میں کئی اسلوب ملتے ہیں۔ مثلاً یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِر (74:1-2)۔ اسی طرح اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: یَا أَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ (5:66)۔ خود احادیث سے بھی دوسرے اسالیب معلوم ہوتے ہیں۔ مثلا ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں:عرض علیہم الإسلام، وتلا علیہم القرآن (سیرت ابن ھشام: 1/428)، وغیرہ۔
اصولی طور پر دعوت کا صرف ایک اسلوب ہے، اور وہ قرآن کی ایک آیت میںاس طرح بتایا گیا ہے: قُلْ لَہُمْ فِی أَنْفُسِہِمْ قَوْلًا بَلِیغًا (4:63)۔یعنی ان سے ایسے اسلوب میں کلام کرو جوان کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ اس قرآنی ہدایت کے مطابق ظاہری اعتبار سے دعوت کے مختلف اسلوب ہوسکتے ہیں۔ اسلوب ہمیشہ مخاطب کے اعتبار سے متعین ہوگا۔ پہلے مخاطب کا مطالعہ کیا جائے گا، اور پھر اس کے ذہن کے اعتبار سے ایسا اسلوب اختیار کیا جائے گا جواس کے ذہن کو اپیل کرنے والا ہو۔
دعوت کا نشانہ یہ ہے کہ مدعو کے اوپر اتمام حجت ہوجائے: لِئَلَّا یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّہِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ(4:165)۔ حجت کبھی کسی قسم کے مقرر الفاظ کی ادائیگی سے نہیں ہوتی۔ حجت کے لیے ضروری ہے کہ اس میںمدعو کے ذہن کی رعایت کی گئی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت کا اسلوب مدعو کے اعتبار سے متعین ہوگا، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔