مسلم الہیات (Muslim Theology) اور مسلم فلسفہ (Muslim Philosophy) دونوں معروف اصطلاحیں ہیں، لیکن دونوں میں ایک فرق ہے- مسلم الہیات کی اصطلاح ایک علمی اصطلاح ہے، جب کہ مسلم فلسفہ کی اصطلاح کوئی علمی اصطلاح نہیں-الہیات مبنی بر وحی علم کا نام ہے، جب کہ فلسفہ ایک ایسے علم کا نام ہے جو مکمل طورپر مبنی بر عقل (reason-based) ہوتا ہے- اسلام میں عقل کو وحی کے تابع قرار دیاگیا ہے، جب کہ فلسفہ میں عقل کو مکمل طور پر آزاد سمجھا جاتا ہے-
فلسفہ ایک مستقل علمی شعبہ ہے- تاریخ کے بڑے بڑے دماغ فلسفہ کے موضوع پر غور وفکر کرتے رہے ہیں- فلسفہ کی تعریف (definition) یہ ہے — کائنات کی حقیقت کی تلاش آزاد طورپر صرف عقل کی روشنی میں:
Pursuit of the ultimate nature of the universe purely through rational analysis.
یہ فلسفیانہ تصور اسلام کے تصورِ علم کے مطابق نہیں- اسلام کے تصور کے مطابق، انسان اپنے آزاد عقلی غور فکر کے ذریعے صرف محدود علم تک پہنچ سکتا ہے، کلی حقیقت تک نہیں(17:85)- فلسفہ کا تصورِ علم اِس کے بالکل مختلف ہے- فلسفہ اِس تصورِ علم پر مبنی ہے کہ انسان اپنی عقل کے ذریعے تمام حقیقتوں تک پہنچ سکتا ہے، حقیقتِ کائنات کی دریافت صرف عقل کے ذریعے ممکن ہے-
عباسی دور میں مسلم فلسفہ وجود میں آیا- مسلم فلسفہ کا تصور صرف مرعوبانہ ذہن کی پیداوار تھا، کیوں کہ اُس زمانے میں فلسفہ کو سب سے بڑا علم (Queen of Art) سمجھا جاتا تھا- حقیقت یہ کہ اسلام میں فلسفہ نہیں، بلکہ الہیات ہے- اسلام میں علمِ کلام، اِسی مقصد کے لیے وجود میں آیا تھا، لیکن قدیم زمانے سے مسلم متکلمین اپنے غیر سائنسی ذہن کی بنا پر اس کو صحیح نہج پر ڈیولپ (develop) نہ کرسکے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔