فطرت کا ایک قانون ہےجس کو ریزیلینس کا قانون (law of resilience)کہا جاتا ہے، یعنی نقصان کی تلافی کرنے کا قانون- مثال کے طورپر اسپنج کو اگر دبائیں اور اس کو چھوڑ دیں تو اپنے آپ وہ دوبارہ اپنی سابق حالت پر واپس آجائے گا- بید(cane) کو اگر موڑیں اور پھر چھوڑ دیں تو اپنے آپ وہ دوبارہ پہلے کی طرح سیدھا ہوجائے گا- ربر کو اگر کھینچا جائے اور پھر چھوڑ دیا جائے تو وہ اپنے آپ پہلے کی طرح ہوجائے گا، وغیرہ-
یہی معاملہ انسان کا ہے- انسان کو بھی فطری طورپر یہ صلاحیت دی گئی ہے کہ اس کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ خود اپنی داخلی صلاحیت کے زور پر دوبارہ اپنی اصل حالت پر واپس آجائے- انسان کا دماغ اِس معاملے کی ایک غیر معمولی مثال ہے- دماغی سائنس کے ایک امریکی ماہر ڈاکٹر بروس (Bruce)نے لکھا ہےکہ — انسان کا دماغ تلافی ِ مافات کی بہت زیادہ صلاحیت رکھتا ہے- اس کو ایک موقع دواور وہ خود ہر کوشش کرکے اس کو درست کرلے گا:
The brain is very resilient. Give it a chance and it will make every effort to repair itself. (Dr. Bruce McEwen, Head of Laboratory of Neuroendocrinology, The Rockefeller University, USA)
انسان کی زندگی میں بار بار حادثات پیش آتے ہیں- یہ فطرت کا نظام ہے، لیکن اِسی فطرت نے انسان کے اندر تلافی مافات کی بھی غیر معمولی صلاحیت رکھی ہے- انسان کے دماغ کواگر متعصبانہ سوچ سے بچایا جائے اور اس کو غیر متاثر انداز میں سوچنے کا موقع دیا جائے تو انسان کا دماغ یہ قدرت رکھتا ہے کہ وہ ہر حادثے کے بعد نئی منصوبہ بندی کرکے دوبارہ اس کی تلافی کرلے-انسان کی یہ صلاحیت بتاتی ہے کہ انسان کے لیے کوئی عذر (excuse) عذر نہیں- انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ہر نقصان کی تلافی کرسکے، وہ ہر مسئلے کا یقینی حل دریافت کرلے- وہ ہر پسپائی کے بعد نئی منصوبہ بندی کرکے آگے بڑھ جائے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔