Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala september 2009
Al-Risala september 2009

آمدنی بڑھانے کا مسئلہ

Urdu · 2 min read

ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ میں معاشی مسئلے سے دوچار ہوں اور اپنی آمدنی بڑھانا چاہتا ہوں۔ مجھے اضافۂ رزق کی کوئی دعا بتائیے۔ میںنے کہا کہ دوسرے لوگوں کی طرح، آپ کا مسئلہ بھی آمدنی میں کمی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ خرچ میں زیادتی کا مسئلہ ہے۔ میرا قیاس ہے کہ آپ غیر ضروری طورپر اپنا خرچ بڑھائے ہوئے ہیں۔ اِس بنا پر آپ مصنوعی طورپر معاشی مسئلے کا شکار ہوگئے ہیں۔ آپ صرف یہ کیجئے کہ آپ اپنے خرچ کو گھٹائیے، اس کے بعد آپ کی آمدنی اپنے آپ بڑھ جائے گی۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ میرا معاملہ ایسا ہی ہے۔

یہ دیکھا گیا ہے کہ آمدنی خواہ کم ہو یا زیادہ، عام طورپر لوگ معاشی مسئلے کا شکار رہتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ اپنے خرچ کو انتظامی حد (manageable limit) کے اندر نہیں رکھتے۔ وہ اپنی عادتوں کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے، وہ صرف اپنی آمدنی کو بڑھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ آمدنی بڑھنے کے ساتھ اُن کا خرچ بھی بڑھ جاتا ہے اور مالی تنگی کا مسئلہ بدستور باقی رہتا ہے۔ یہ معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے صرف بے شعوری کا معاملہ ہے، وہ معاشی تنگی یا آمدنی کی کمی کا معاملہ نہیں۔ ایسے حالات میں آدمی کو چاہیے کو وہ اپنے شعور کو بڑھائے، نہ کہ اپنی آمدنی کو بڑھانے کی بے فائدہ کوشش کرتا رہے۔

معاش کے مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے سادگی اور قناعت۔ سادگی آپ کو غیر ضروری خرچ سے بچاتی ہے۔ اور قناعت آپ کو ہر حال میں سکون عطاکرتی ہے۔ مزید یہ کہ سادگی اور قناعت با مقصد انسان کا طریقہ ہے۔ جس آدمی کے سامنے کوئی اعلیٰ مقصد ہو، اُس پر لازم ہے کہ وہ سادگی اور قناعت کا طریقہ اختیار کرے، ورنہ وہ چاہتے ہوئے بھی اپنے مقصد کے لیے کام نہ کرسکے گا۔ وہ دل سے چاہے گا کہ میں با مقصد زندگی گزاروں، لیکن عملاً یہ ہوگا کہ وہ بے مقصد زندگی گزارے گا، اورپھر اِسی حال میں مر جائے گا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.